ارجنٹائن کے صدر حاویئر میلیے (Javier
Milei) نے
اقوام متحدہ کو بیکار قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اقوام متحدہ ایک ایسے
بیوروکریٹک نظام میں تبدیل ہو چکی ہے جو دنیا کے ممالک اور عوام کی زندگیوں میں
مداخلت کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے
حاویئر میلیے نے عالمی ادارے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اپنی تقریر کا آغاز
اقوام متحدہ کے قیام کے بنیادی مقاصد کو سراہتے ہوئے حاویئر میلیے نے کہا کہ
تنازعات کا پرامن حل، عالمی آزادی اور انسانی وقار کا فروغ بلاشبہ ایک قابلِ
احترام مقصد تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ادارہ اپنے بنیادی وعدوں سے دور ہوگیا
ہے۔
حاویئر میلیے(Javier Milei) نے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اقوام
متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے لاک ڈاؤن
پالیسیوں کو سائنسی شواہد اور قومی خودمختاری کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض
ریاستوں نے صحتِ عامہ کے نام پر شہریوں کے کام کرنے، تعلیم حاصل کرنے اور اپنے
پیاروں کو آخری بار دیکھنے کے حقوق محدود کیے۔ انہوں نے کورونا وبا سے متعلق عالمی
اقدامات کو ’سماجی کنٹرول کے ایک عالمی تجربے‘ سے تعبیر کرتے ہوئے انتہائی سخت
الفاظ استعمال کیے اور دعویٰ کیا کہ ان پالیسیوں کے نتیجے میں لاکھوں قابلِ تلافی
اموات ہوئیں۔
ارجنٹائن کے صدر نے اقوام متحدہ پر عالمی امن اور انسانی حقوق کے
تحفظ میں ناکامی کا الزام بھی عائد کیا۔ ان کے مطابق عالمی ادارے نے ایسے ممالک
اور گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کیے جن پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور
دہشتگردی کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ حاویئر میلیے (Javier
Milei) نے اسرائیل سے متعلق اقوام
متحدہ کے مؤقف پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عالمی ادارے نے اسرائیل
کے خلاف بارہا ووٹ دیے جبکہ اسلامی دہشتگردی اور افریقہ میں مسیحیوں کے خلاف تشدد
کے معاملے پر خاموشی اختیار کی۔
ارجنٹائن کے صدر نے فاک لینڈ Falklands
جزائر سمیت ساؤتھ جارجیا، ساؤتھ سینڈوچ جزائر اور ان سے ملحقہ
سمندری علاقوں کے معاملے کو بھی اقوام متحدہ کے لیے ایک امتحان قرار دیا، ان کا
کہنا تھا کہ عالمی ادارے کی قراردادوں اور عملی اقدامات میں واضح فرق موجود ہے۔ حاویئر
میلیے نے کہا کہ عالمی اداروں کے پاس الفاظ اور قراردادوں کی کمی نہیں، اصل مسئلہ
ان پر عمل درآمد اور نتائج کا ہے۔ ان کے مطابق جو ادارہ اپنے الفاظ کو عملی دنیا
میں مؤثر نہ بنا سکے، وہ بالآخر اپنی اتھارٹی کھو دیتا ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ کے موجودہ
ڈھانچے کو ایک بڑے بیوروکریٹک نظام سے تشبیہ دی جو دنیا کے شہریوں کو یہ بتانے کی
کوشش کرتا ہے کہ انہیں کس طرح زندگی گزارنی چاہیے۔ انہوں نے معروف ماہرِ معاشیات
لڈوِگ فان میزس Ludwig von Mises کے حوالے سے کہا کہ اچھے لوگ اپنے ہم وطنوں کی زندگیوں کو کنٹرول کرنے
کے بارے میں نہیں سوچتے۔