ٹوکیو کے شہری ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایسٹ جاپان ریلوے اور ٹوکیو میٹرو نے ۴۸ بڑے اسٹیشنوں پر کنٹیکٹ لیس ادائیگیوں کے توسیعی پروگرام کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس انقلابی قدم کے بعد مسافر اب کسی بھی ملکی یا بین الاقوامی بینک کے کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا اسمارٹ فون وائلٹ کے ذریعے ٹکٹ لیے بغیر براہِ راست اسٹیشن کے گیٹس سے داخل ہو سکتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پچھلی دو دہائیوں میں ٹوکیو کے نظام میں سب سے بڑی تبدیلی ہے۔
ٹرانسپورٹ حکام کے مطابق نئے گیٹس کی چپ ریڈر ٹیکنالوجی صرف ۱۸۰ ملی سیکنڈ میں مالیاتی ادائیگی کی تصدیق مکمل کر لیتی ہے۔ یامانوتے لائن کے اہم اسٹیشنوں سے حاصل کردہ ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صبح کے شدید رش کے اوقات میں ٹکٹ کی قطاروں میں ۳۵ فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور مسافروں کی آمد و رفت میں ۲۲ فیصد نمایاں روانی آئی ہے۔ شدید بارش کے دنوں میں بھی اسٹیشنوں پر مسافروں کی آمد و رفت بلا تاخیر جاری رہی۔
نئے نظام کی تکنیکی خصوصیات اور بینکاری و ادائیگی کا طریقہ
اس نئے نظام کے پسِ پردہ جدید ترین کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور محفوظ اینکرپشن ٹیکنالوجی کام کر رہی ہے جو بیک وقت لاکھوں مسافروں کے کرائے کا حساب منٹوں میں لگاتی ہے۔ انجینئرز نے عالمی بینکنگ اداروں کے ساتھ مل کر یہ یقینی بنایا ہے کہ تمام مالیاتی لین دین اعلیٰ ترین عالمی سیکیورٹی معیارات کے مطابق محفوظ رہیں۔ کلاؤڈ سسٹم مختلف ٹرینوں کی تبدیلی کے کرائے کا خودکار حساب لگاتا ہے۔
روایتی طور پر ٹوکیو کا سفری نظام سوئیکا اور پاسمو جیسے مقامی آئی سی کارڈز پر انحصار کرتا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کارڈز دہائیوں سے کامیاب رہے، تاہم بیرونِ ملک سے آنے والے لاکھوں سیاحوں کے لیے ہوائی اڈوں سے کارڈ خریدنا، سیکیورٹی ڈپازٹ جمع کروانا اور رقم ری چارج کرنا ایک پیچیدہ عمل ثابت ہوتا تھا جس سے ہوائی اڈوں کے اسٹیشنوں پر رش بڑھ جاتا تھا۔
ٹوکیو کے ۴۸ بڑے اسٹیشنوں پر کریڈٹ کارڈ اور اسمارٹ فون کے لیے نئے کنٹیکٹ لیس گیٹ۔
مسافروں کی ترسیل میں بہتری، رفتار اور انتظامی اثرات
مقامی حکام کا کہنا ہے کہ نیا نظام بین الاقوامی سیاحوں اور مقامی شہریوں کے لیے سفر کو بے حد آسان بنا دے گا۔ ہانیڈا اور ناریتا ہوائی اڈوں پر اترنے والے غیر ملکی مسافر اب کسی صف میں کھڑے ہوئے بغیر اپنے بین الاقوامی بینک کارڈز کو ٹیپ کر کے سیدھے ٹوکیو کے تجارتی مراکز تک سفر کر سکتے ہیں۔ اس سے جاپان کے بین الاقوامی سیاحتی اور مالیاتی تاثر کو بے حد تقویت ملی ہے۔
ٹوکیو، شنژوکو، شیبویا اور شیناگاوا کے مرکزی اسٹیشنوں پر مسافروں نے نئے نظام کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔ شہریوں کے مطابق اسمارٹ فون یا کارڈ کے ایک سیکنڈ کے لمس سے گیٹ کھل جانے سے ٹرینوں کی تبدیلی میں لگنے والا وقت اور پریشانی ختم ہو گئی ہے۔ خاص طور پر صبح کام پر دیر سے پہنچنے کے خوف سے مسافروں کو نجات مل گئی ہے۔
اسٹیشنوں کے اندر قائم تجارتی مراکز اور دکانوں کو بھی اس نظام سے بڑا معاشی فائدہ پہنچا ہے۔ پلیٹ فارم گیٹس پر رش ختم ہونے کی وجہ سے اسٹیشن کی بیکریز، نیوز اسٹینڈز، کافی شاپس اور سہولت مراکز پر خریداروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسٹیشن کے دکانداروں نے صبح کے ناشتے کی فروخت میں ۱۵ فیصد اضافے کی تصدیق کی ہے۔
مستقبل کی حکمتِ عملی اور دوسرے جاپانی شہروں میں توسیع
انتظامی نقطہ نظر سے، ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اس نئے نظام کی بدولت گیٹس کی دیکھ بھال اور مرمت پر آنے والے سالانہ اخراجات میں خاطر خواہ کمی آئے گی کیونکہ پرانے مکینیکل گیٹس کے مقابلے میں نئے ڈیجیٹل ریڈرز میں متحرک پرزے نہ ہونے کی وجہ سے خرابی نہیں ہوتی اور ان کی عمر طویل ہوتی ہے۔
ایسٹ جاپان ریلوے کا کنٹرول روم مسافروں کی تعداد کے مطابق ٹرینوں کا وقت طے کرتا ہے۔
اگلے مرحلے میں ٹوکیو کی بلدیہ اگلے ۱۸ ماہ کے دوران اس تکنیک کو نواحی بسوں، پرائیویٹ ٹرینوں اور چھوٹی ریلوے لائنوں تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ اوساکا، کیوٹو اور ناگویا کے ریلوے اداروں کے ساتھ بھی بات چیت جاری ہے تاکہ پورے جاپان میں یکساں ادائیگی کا نظام قائم ہو سکے اور پورے ملک میں سفر آسان ہو جائے۔
ٹوکیو کا یہ ماڈل دنیا بھر کے بڑے میٹروپولیٹن شہروں کے لیے ایک بہترین بین الاقوامی نمونہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرینِ ٹرانسپورٹ کا اندازہ ہے کہ اگلے تین سالوں میں ٹوکیو کے ۸۰ فیصد مسافر اسی جدید طریقہ کار سے روزانہ سفر کریں گے جس سے دارالحکومت کی روزمرہ زندگی مزید تیز اور آسان ہو جائے گی۔