جاپان کے شمالی اضلاع ایواٹے، مییاگی اور آوموری کے تعلیمی بورڈز نے مشترکہ طور پر ایک ڈیجیٹل تعلیمی پروگرام شروع کیا ہے جس کا مقصد دور دراز دیہی علاقوں کے بچوں کو معیارِ تعلیم میں مساوات فراہم کرنا ہے۔ اس منصوبے کے تحت چھوٹے اسکول سائنس، ریاضی اور غیر ملکی زبانوں کے ماہر اساتذہ کی خدمات آن لائن ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں جس سے تعلیم کے مساوی مواقع میسر آئیں گے اور دیہی بچوں کو بہترین تعلیم ملے گی۔
دیہی علاقوں میں آبادی کی کمی کے باعث مقامی اسکولوں کے لیے ہر مضمون کا الگ ماہر استاد رکھنا مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ اب نئے نظام کے تحت موریوکا شہر میں بیٹھا ہوا ایک ماہر استاد بیک وقت ۵ مختلف دیہی اسکولوں کے بچوں کو آن لائن کلاس پڑھا سکتا ہے تاکہ کوئی بچہ تعلیم میں پیچھے نہ رہے اور سب کو برابر توجہ ملے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور تدریسی نصاب کی جامع ساخت
تمام شریک کلاس رومز میں بڑی ایچ ڈی اسکرینز، جدید مائیکرو فونز اور تیز ترین فائبر آپٹک انٹرنیٹ انسٹال کیا گیا ہے۔ طالبعلم ڈیجیٹل ٹیبلٹس کے ذریعے اپنے استاد اور دوسرے اسکولوں کے بچوں سے اس طرح بات چیت کرتے ہیں جیسے وہ ایک ہی کمرے میں موجود ہوں۔ کیمرے بولنے والے بچے پر خودکار توجہ مرکوز کرتے ہیں تاکہ استاد ان کے چہرے کے تاثرات دیکھ سکے۔
وزارتِ تعلیم کے نمائندوں نے وضاحت کی ہے کہ یہ صرف ون وے ویڈیو لیکچر نہیں ہے بلکہ اس میں ڈیجیٹل وائٹ بورڈز اور گروپ پروجیکٹس شامل ہیں جہاں مختلف اضلاع کے بچے مل کر سوالات حل کرتے ہیں جس سے ان میں دوستی اور باہمی تعاون بڑھتا ہے اور مختلف علاقوں کے بچے ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔
ریاضی کے ماہر استاد چار دیہی اسکولوں کے بچوں کو ایک ساتھ پڑھا رہے ہیں۔
کلاس روم کا ماحول اور بچوں کی آپسی تعلیمی سرگرمیاں
اسکول پرنسپلز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے بچوں کے پڑھنے کی صلاحیت میں واضح بہتری آئی ہے۔ جن کلاس رومز میں پہلے صرف چار یا پانچ بچے ہوتے تھے، وہ اب دوسرے اسکولوں کے دسیوں بچوں کے ساتھ بحث و مباحثے میں حصہ لے کر پراعتماد ہو رہے ہیں۔ اساتذہ کے مطابق بچے اب کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور پڑھائی میں دلچسپی لیتے ہیں۔
حکام نے یہ یقینی بنایا ہے کہ دیہی علاقوں کے تمام بچوں کو یکساں ٹیبلٹس اور مفت انٹرنیٹ کی سہولت ملے۔ اس کے علاوہ کلاس روم میں موجود مقامی اساتذہ کو بھی آن لائن سسٹم چلانے کی خصوصی تربیت دی گئی ہے تاکہ کلاس کا نظم و ضبط برقرار رہے اور تکنیکی مسائل کو فورا حل کیا جا سکے۔
اس پروگرام میں کمپیوٹر پروگرامنگ، روبوٹکس، انگلش بول چال اور مقامی ثقافت کے مضامین کو شامل کیا گیا ہے جن کی تدریس پہلے دیہی اسکولوں میں ممکن نہیں تھی۔ دیہی بچوں کو اب وہ مضامین پڑھنے کو مل رہے ہیں جو پہلے صرف ٹوکیو کے بڑے اسکولوں میں میسر تھے جس سے تعلیمی مساوات قائم ہوئی ہے۔
آبادی کے مسائل کا حل اور تعلیمی پالیسی کا مستقبل
چھ ماہ کے ابتدائی جائزے کے بعد بچوں کے رزلٹ میں ۱۸ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو اس ڈیجیٹل ماڈل کی کامیابی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ دیہی اسکولوں میں بچوں کی حاضری کی شرح ۹۸ فیصد تک پہنچ چکی ہے جو بچوں کے پڑھائی میں شوق کا ثبوت ہے۔
کلاؤڈ پلیٹ فارم کے ذریعے طالبعلم ماحول پر تحقیق کا مشترکہ پروجیکٹ مکمل کر رہے ہیں۔
والدین اور اساتذہ کی تنظیموں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گاؤں میں اچھی تعلیم ملنے سے اب لوگوں کو بچوں کی پڑھائی کے لیے بڑے شہروں کی طرف نقل مکانی نہیں کرنی پڑے گی جس سے دیہی زندگی کی روایات محفوظ رہیں گی اور خاندان اکٹھے رہیں گے۔
جاپانی حکومت اب اس کامیاب ماڈل کو اگلے سال ہوکائیڈو اور دیگر دور دراز جزائر کے اسکولوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ملک کے ہر بچے کو ایک جیسی معیاری تعلیم مل سکے اور تعلیمی مساوات قائم ہو۔ یہ جدید ماڈل جاپان کے تعلیمی مستقبل کی ضمانت ہے۔