کیوٹو کی ثقادتی ورثہ کمیٹی نے روایتی کاریگروں اور ماہرینِ تعمیرات کے ساتھ مل کر تاریخی کاموگاوا ندی کے علاقے کو ۱۸ ماہ کی محنت کے بعد دوبارہ عوام کے لیے کھول دیا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت ۱۹ویں صدی کی لکڑی سے بنی روایتی عمارتوں (ماچیا) کی بحالی کے ساتھ ساتھ ان کی زلزلے سے حفاظتی تدابیر مکمل کی گئی ہیں تاکہ اس ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے اور کیوٹو کا شاندار ماضی زندہ رہے۔
کاموگاوا ندی کے مغربی کنارے پر واقع یہ علاقہ جاپان کے سب سے خوبصورت تاریخی علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ دہائیوں سے ندی کی نمی اور موسمی اثرات کی وجہ سے لکڑی کے فریموں کو نقصان پہنچا تھا جس پر بلدیہ نے اس کی جامع مرمت کا منصوبہ بنایا تاکہ قدیم عمارتوں کو تباہی سے بچایا جا سکے اور ان کی اصل حالت بحال کی جائے۔
قدیم عمارتوں کی بحالی اور روایتی نجارانہ ٹیکنالوجی
ماہر نجاروں نے لکڑی کے جوڑوں کی قدیم تکنیک (کاناوا تسوگی) استعمال کرتے ہوئے بغیر کسی لوہے کی کیل کے لکڑی کے بوسیدہ حصوں کو تبدیل کیا۔ یہ قدیم طریقہ عمارت کو زلزلے کے جھٹکوں کے دوران لچک فراہم کرتا ہے اور اس کی اصل روایتی شکل برقرار رکھتا ہے جو صدیاں پرانی جاپانی روایت کی ترجمانی کرتا ہے۔
لکڑی کی مرمت کے ساتھ ساتھ شہر کے انجینئرز نے بجلی اور ٹیلی فون کے تمام بکھرے ہوئے تاروں کو ندی کے کنارے بچھے پتھر کے راستوں کے نیچے زیرِ زمین منتقل کر دیا ہے جس سے گلیوں کی تنگی ختم ہو گئی ہے اور سیاحوں کو پیدل چلنے میں آسانی ہو گئی ہے۔
پتھر کی نالیوں اور پوشیدہ بجلی کے نظام نے ۱۹ویں صدی کے تاریخی نظارے کو زندہ کر دیا ہے۔
انفراسٹرکچر کی زیرِ زمین منتقلی اور سیلاب سے بچاؤ
بجلی کے کھمبوں اور تاروں کے خاتمے سے مشرقی پہاڑوں کے تاریخی نظارے بحال ہو گئے ہیں جنہیں سیاح اور مقامی شہری اب بغیر کسی رکاوٹ کے دیکھ سکتے ہیں اور ایدو دور کا تاریخی ماحول محسوس کر سکتے ہیں جہاں ہر طرب تاریخ دکھائی دیتی ہے۔
ندیہ کے کنارے سیلاب سے بچاؤ کے لیے چھپے ہوئے کنکریٹ اور پتھر کے بند بنائے گئے ہیں تاکہ بارشوں کے موسم میں ندی کا پانی روایتی عمارتوں میں داخل نہ ہو سکے اور ساحل کی طبیعی خوبصورتی بھی برقرار رہے اور تعمیراتی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
علاقے کے چائے خانوں، روایتی ہوٹلوں اور دستکاری کی دکانوں کے مالکان نے اس بحالی کو سراہا ہے۔ رات کے وقت روایتی فانوسوں کی ہلکی پیلی روشنی پتھر کی گلیوں کو ایک دلکش منظر دیتی ہے جس سے سیاحوں کی آمد بڑھ گئی ہے اور مقامی کاروبار چمک اٹھے ہیں۔
پائیدار سیاحت اور مقامی آبادی کا توازن
سیاحوں کے ہجوم کو کنٹرول کرنے اور مقامی لوگوں کے سکون کو برقرار رکھنے کے لیے بڑی بسوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور پیدل چلنے والوں کے لیے مخصوص اوقات مقرر کیے گئے ہیں تاکہ رہائشیوں کو پریشانی نہ ہو اور کیوٹو کا پرسکون ماحول برقرار رہے۔
ماہر نجاروں نے بغیر کیلوں کے روایتی لکڑی کے جوڑ لگا کر زلزلے سے بچاؤ کو یقینی بنایا۔
تعمیراتی ورثے کے عالمی ماہرین نے کیوٹو کے اس اقدام کو تاریخی ورثے کی حفاظت کے لیے ایک مثال قرار دیا ہے جس میں جدید تحفظ اور قدیم فن کو خوبصورتی سے یکجا کیا گیا ہے اور مقامی لوگوں کی ضروریات کا خیال رکھا گیا ہے جس کی دنیا بھر میں داد دی جا رہی ہے۔
دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے کیوٹو کا یہ بحال شدہ علاقہ جاپان کی ثقافتی تاریخ اور روایت سے محبت کا عکاس ہے۔ حکام کو امید ہے کہ یہ ماڈل جاپان کے دیگر تاریخی شہروں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گا اور لکڑی کی قدیم عمارتیں زندہ رہیں گی اور جاپانی تہذیب چمکتی رہے گی۔