پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مون سون کی متوقع بارشوں کے پیشِ نظر چناب، راوی اور ستلج کے دریاؤں پر خودکار ریل ٹائم سیلابی اطلاع کا نظام مضبوط کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دیہی آبادیوں، مویشیوں اور زرعی زمینوں کو سیلابی نقصان سے بچانا ہے تاکہ قیمتی جانوں کی حفاظت کی جا سکے۔
نئے نظام کے تحت ۶۴ اہم مقامات پر سولر پاور سے چلنے والے واٹر لیول سنسرز اور بارش ناپنے والے آلات نصب کیے گئے ہیں۔ یہ آلات سیٹلائٹ کے ذریعے ڈسٹرکٹ ہنگامی کنٹرول رومز کو لمحہ بہ لمحہ معلومات فراہم کرتے ہیں جس سے ۱۲ گھنٹے قبل سیلاب کی اطلاع مل جاتی ہے اور نقل مکانی آسان ہو جاتی ہے۔
خودکار ریور گیج ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ سسٹم
محکمہ آبپاشی کے انجینئرز نے ۱۸۰ کلومیٹر طویل حفاظتی بندوں کی مرمت اور مضبوطی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ دریا کے تیز بہاؤ سے بندوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے کنکریٹ کے پشتے اور پتھروں کی دیواریں بنائی گئی ہیں تاکہ دیہات ڈوبنے سے بچ سکیں۔
کم سطح والی زرعی زمینوں کو بچانے کے لیے اضافی پانی کو ندیوں کی طرف موڑنے والی نہریں اور جھیلیں بنائی گئی ہیں۔ تیز بہاؤ کے وقت خودکار دروازوں کے ذریعے پانی ان جھیلوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے تاکہ کپاس اور چاول کی فصلیں تباہ نہ ہوں اور کسانوں کا معاشی نقصان نہ ہو۔
ہنگامی امدادی ٹیمیں سیٹلائٹ سگنلز اور واٹر گیج کے نظام کو چیک کر رہی ہیں۔
حفاظتی بندوں کی مضبوطی اور متبادل نہروں کی تعمیر
ملتان، جھنگ اور مظفر گڑھ کے اضلاع میں ۲۴ گھنٹے کام کرنے والے ہنگامی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں جہاں ریسکیو ۱۱۲۲، سول ڈیفنس اور طبی ٹیمیں ایک ساتھ موجود ہیں اور پل پل کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
۱۲۰ سے زائد حساس دیہاتوں میں مقامی شہریوں کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت دی گئی ہے۔ رضاکاروں کو سیٹلائٹ ریڈیو، لائف جیکٹس اور پانی صاف کرنے کی کٹس فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ بروقت حفاظت سے منتقل ہو سکیں اور مدد حاصل کر سکیں۔
محکمہ صحت نے دیہی ہیلتھ سینٹرز میں سانپ کے کاٹنے کی ادویات، ہیضہ اور پیٹ کی بیماریوں کی ادویات وافر مقدار میں پہنچا دی ہیں جبکہ پانی پر تیرنے والے ہیلتھ کلینکس بھی تیار رکھے گئے ہیں تاکہ مریضوں کو فوری علاج مل سکے۔
کمیونٹی کی تربیت اور ہنگامی کنٹرول رومز کا قیام
محکمہ زراعت کے افسران کسانوں کو سیلاب سے بچاؤ کی تدابیر اور پانی برداشت کرنے والے بیجوں کے استعمال کی معلومات فراہم کر رہے ہیں تاکہ فصلوں کا نقصان کم سے کم ہو اور ذخیرہ شدہ اناج خراب نہ ہو۔
نئی بائی پاس نہروں کے ذریعے اضافی پانی کو آبادی سے دور جھیلوں میں منتقل کیا جاتا ہے۔
جنوبی ایشیا کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ تنظیموں نے پنجاب کے اس خودکار اطلاع کے نظام کی تعریف کی ہے۔ ماہرین کے مطابق ریل ٹائم ڈیٹا سے قیمتی انسانی جانوں اور معاشی نقصان کو بچایا جا سکتا ہے اور یہ طریقہ کار سب سے بہترین ہے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کے غیر یقینی ہونے کے باوجود، پنجاب کا یہ نظام دیہی عوام کے لیے ایک مضبوط تحفظ ثابت ہو رہا ہے۔ حکام اس سسٹم کو چھوٹی ندیوں تک پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ پورا صوبہ محفوظ رہے۔