محکمہ توانائی سندھ نے تھرپارکر اور بدین کے دور دراز علاقوں میں جدید سولر مائیکرو گرڈز کا افتتاح کیا ہے جس سے دیہی عوام کو مسلسل اور ارزاں بجلی ملنا شروع ہو گئی ہے۔
اس سے قبل ان علاقوں کے رہائشی مہنگے ڈیزل اور مٹی کے تیل کے لیمپ استعمال کرنے پر مجبور تھے جس سے ان کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ اب ۱۲۰ کلوواٹ کے شمسی پلانٹس کی بدولت چوبیس گھنٹے بجلی میسر ہے۔
سولر مائیکرو گرڈز کی ساخت اور بیٹری سٹوریج
کسانوں کو سولر پمپس سے زیرِ زمین پانی حاصل کرنے میں آسانی ہوئی ہے جس سے آبپاشی کی لاگت ۶۵ فیصد کم ہو گئی ہے اور بنجر زمینوں پر فصلیں اگائی جا رہی ہیں۔
مائیکرو گرڈز سے دیہی کلینکس اور بچوں کے اسکولوں کو بھی بجلی فراہم کی جا رہی ہے جس سے دواؤں کو ٹھنڈا رکھنا اور شام کے وقت پڑھائی ممکن ہو گئی ہے۔
مقامی نوجوانوں کو سولر بیٹریاں اور انورٹرز کی دیکھ بھال کی تربیت دی گئی ہے۔
زرعی ٹیوب ویل اور کاروباری سرگرمیوں کے فائدے
اسمارٹ میٹرنگ کی بدولت دیہاتی موبائل فون سے بجلی کے ریچارج ٹوکن خرید سکتے ہیں جس سے شفافیت اور دیکھ بھال کا خرچ پورا ہوتا ہے۔
مقامی نوجوانوں کو سولر پینلز اور انورٹرز کی مرمت کی تربیت دی گئی ہے جس سے گاؤں کے اندر ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
دھوئیں کے اخراج میں کمی سے دیہاتوں میں فضا صاف ہوئی ہے اور سانس کی بیماریوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
دیہی زندگی پر مثبت اثرات اور مقامی کنٹرول
حکومتِ سندھ اس ماڈل کو اگلے مرحلے میں مزید ۸۰ دیہاتوں تک پھیلانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
سولر پمپس سے صحرائی کسانوں کی آبپاشی لاگت میں ۶۵ فیصد کمی آئی ہے۔
عالمی ماہرینِ توانائی نے سندھ کے اس شمسی ماڈل کو جنوبی ایشیا کے لیے ایک بہترین مثال قرار دیا ہے۔
سولر ٹیکنالوجی نے سندھ کے دیہاتوں کی تقدیر بدل دی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ پاک توانائی سے دیہی معیشت کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔