گوادر پورٹ اتھارٹی نے عرب کے ساحل پر قائم گوادر ڈیپ واٹر بندرگاہ کی توسيع کے منصوبے کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ یہاں بڑی خودکار کرینیں اور ۶۰ میگاواٹ کا سولر پاور پلانٹ نصب کیا گیا ہے جو بندرگاہ کو جدید بناتا ہے۔
گوادر بندرگاہ کی قدرتی گہرائی ۱۴.۵ میٹر ہے جس کی وجہ سے دنیا کے بڑے بحری جہاز آسانی سے گودی پر لگ سکتے ہیں اور جہاز رانی کی کمپنیوں کے اخراجات بچتے ہیں۔
ڈیپ واٹر ٹرمینل کی ساخت اور خودکار کرینیں
بندرگاہ کے ساتھ قائم فری زون میں کولڈ اسٹوریج اور جدید گودام بنائے گئے ہیں جہاں سامان کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
کمپیوٹرائزڈ کسٹمز سسٹم کی بدولت سامان کی کلیئرنس کا وقت دنوں کے بجائے صرف ۴ گھنٹے رہ گیا ہے جس سے وسطی ایشیائی ممالک کے لیے تجارت آسان ہو گئی ہے۔
۱۴.۵ میٹر گہرے پانی کے باعث دنیا کے بڑے بحری جہاز آسانی سے گودی پر لگ سکتے ہیں۔
فری زون گودام اور بین الاقوامی بحری تجارت
گوادر سے دبئی، سنگاپور اور شنگھائی کی بندرگاہوں کے لیے ڈائریکٹ بحری سروس شروع کر دی گئی ہے۔
گوادر کے ۱۵۰۰ سے زائد مقامی نوجوانوں کو پورٹ آپریشنز، کرینیں چلانے اور مینجمنٹ میں اچھے معاوضے پر نوکریاں دی گئی ہیں۔
بندرگاہ سے منسلک سمندری پانی کو میٹھا بنانے کے پلانٹ سے پورٹ اور گوادر کے شہریوں کو روزانہ ۵۰ لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔
مقامی افراد کو روزگار اور پینے کے پانی کا پروجیکٹ
گوداموں کی چھتوں پر سولر پینلز لگائے گئے ہیں جو بندرگاہ کی ۷۰ فیصد بجلی کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
کمپیوٹرائزڈ کسٹمز سسٹم سے سامان کی کلیئرنس کا وقت صرف ۴ گھنٹے رہ گیا۔
عالمی ماہرینِ تجارت نے گوادر کی جغرافیائی اہمیت کو خطے کی معاشی ترقی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
گوادر بندرگاہ کا یہ توسیعی منصوبہ پاکستان کو بین الاقوامی بحری تجارت کا اہم ترین مرکز بنانے کی سمت میں بڑا سنگِ میل ہے۔