بین الاقوامی تجارت میں تاخیر اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے دنیا کی ۲۰ بڑی کنٹینر بندرگاہوں نے ایک تاریخی ڈیجیٹل معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ عالمی سمندری تنظیم کے ہیڈ کوارٹر میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت بحری جہازوں کی آمد و رفت کا ڈیٹا ریئل ٹائم میں ڈیجیٹل پورٹل پر شیئر کیا جائے گا جس سے سمندری تجارت کا نیا دور شروع ہوگا۔
ماضی میں عالمی کارگو جہاز سمندر میں تیز رفتار سے سفر کر کے منزل پر پہنچتے تھے لیکن بندرگاہ پر گودی خالی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کئی دنوں تک سمندر میں اینکر ڈال کر انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اس پرانے طریقے سے ہر سال لاکھوں ٹن ایندھن ضائع ہوتا تھا اور ساحلی علاقوں میں شدید آلودگی پھیلتی تھی۔
ڈیجیٹل ڈیٹا کے یکساں معیارات اور کلاؤڈ سسٹم
نئے ڈیجیٹل نظام کے تحت بندرگاہ کا کنٹرول روم جہاز کے پہنچنے سے ہزاروں میل پہلے ہی اسے گودی خالی ہونے، پانی کی گہرائی اور کرین کی دستیابی کی لائیو معلومات بھیج دے گا۔ جہاز اس معلومات کے مطابق اپنی رفتار کو ایڈجسٹ کر کے بالکل صحیح وقت پر بندرگاہ پر پہنچے گا اور انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔
بحری انجینئرز کے مطابق صحیح وقت پر پہنچنے کے لیے رفتار کو متوازن رکھنے سے جہازوں کا ایندھن ۱۸ فیصد کم خرچ ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر اس سے سالانہ ۱۲ ملین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج کم ہوگا جس سے ماحولیاتی آلودگی میں نمایاں کمی آئے گی۔
جہاز کے پہنچنے سے پہلے ڈیٹا ملنے کی وجہ سے کرینیں پہلے سے کام کی منصوبہ بندی کر لیتی ہیں۔
جہازوں کے ایندھن کی بچت اور کاربن کے اخراج میں کمی
یہ نیا ڈیجیٹل سسٹم اینکرپٹڈ بلاک چین اور جدید ڈیٹا معیارات پر کام کرتا ہے۔ کسٹمز اور دیگر دفتری کارروائی سمندر کے دوران ہی مکمل ہو جانے کی وجہ سے جہاز کے پہنچتے ہی کرینیں سامان اتارنا شروع کر دیتی ہیں اور وقت ضائع نہیں ہوتا۔
سنگاپور اور روٹرڈیم کی بندرگاہوں کے منیجرز نے بتایا ہے کہ بندرگاہ کے باہر اینکر ڈالنے کی ضرورت ختم ہونے سے سمندری ٹریفک کے حادثات کا خطرہ ختم ہو گیا ہے اور طوفان کے دوران جہاز اور ساحل دونوں محفوظ رہتے ہیں۔
دنیا کی بڑی شپنگ کمپنیوں نے اس معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایندھن کی بچت سے کمپنی کے اخراجات کم ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم کرنے کے عالمی ہدف کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور تجارت سستی ہوگی۔
بندرگاہوں کی کارکردگی اور سپلائی چین کی بہتری
سامان بھیجنے اور منگوانے والے تاجروں کو بھی اس نظام سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔ جہاز کے پہنچنے کا وقت پہلے سے معلوم ہونے کی وجہ سے ٹرک اور ٹرینیں بروقت سامان اٹھا لیتی ہیں جس سے گوداموں میں سامان کا انبار نہیں لگتا اور تاجروں کے پیسے بچتے ہیں۔
پورٹ ماسٹرز تمام متعلقہ ٹیموں کو ایک ہی ڈیجیٹل اسکرین کے ذریعے ہدایات دیتے ہیں۔
عالمی سمندری تنظیم نے ۲۰۲۸ء تک اس ڈیجیٹل پورٹل پروٹوکول کو دنیا کی تمام بندرگاہوں کے لیے لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تکنیکی ٹیمیں چھوٹی بندرگاہوں کو یہ سافٹ ویئر لگانے میں مدد دے رہی ہیں تاکہ تمام بندرگاہیں آپس میں جڑ سکیں۔
بین الاقوامی تجارت کے بڑھتے ہوئے حجم کے پیشِ نظر، بندرگاہوں کا یہ ڈیجیٹل اتحاد ثابت کرتا ہے کہ معلومات کی شفافیت سے پرانے طریقوں کو کس طرح جدید اور پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ سمندری تجارت کا مستقبل ہے۔