۱۴ ممالک کے سمندری تحقیقی اداروں پر مشتمل عالمی مائین الائنس نے ۱۲ ماہ پر محیط سمندری دھاروں کا تاریخی عالمی سروے مکمل کر لیا ہے۔ اس منصوبے میں ۴ ہزار خودکار سمندری سنسرز (بوائز) اور سیٹلائٹ ریڈار استعمال کیے گئے ہیں جن سے سمندری گرمی اور گہری دھاروں کا ایک بہترین ڈیجیٹل نقشہ تیار ہوا ہے جو موسمیاتی تحقیق میں نئی پیش رفت ہے۔
بحرِ اوقیانوس، بحرِ الکاہل اور بحرِ ہند کے گہرے سمندروں کا احاطہ کرنے والی اس تحقیق میں ۲ ہزار میٹر کی گہرائی تک پانی کے درجہ حرارت، نمکیات اور لہروں کی رفتار کو ناپا گیا ہے۔ اس ڈیٹا سے سائنسدانوں کو زمین پر گرمی کی نقل و حرکت اور سمندروں کے گرم ہونے کا جائزہ لینے کا موقع ملا ہے۔
خودکار سنسرز اور سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کا ملاپ
تحقیق کا سب سے اہم مرکز بحرِ اوقیانوس کی وہ بڑی گرم دھار (AMOC) تھی جو خطِ استوا کا گرم پانی شمالی علاقوں تک لے جاتی ہے۔ سنسرز کے ڈاٹا سے تصدیق ہوئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس بڑی سمندری دھار کی رفتار میں وقت کے ساتھ کمی آ رہی ہے جس سے سائنسدانوں کی پیش گوئیاں سچ ثابت ہوئی ہیں۔
سمندری ماہرین نے وضاحت کی ہے کہ سمندری دھاروں کی رفتار بدلنے سے دنیا بھر کا موسم متاثر ہوتا ہے۔ اس سے جہاں ایشیا میں مون سون کی بارشوں کا نظام بدلتا ہے وہاں امریکہ اور یورپ کے ساحلوں پر سمندری طوفانوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور ساحلی آبادیاں متاثر ہوتی ہیں۔
خودکار بوائے سنسرز ۲ ہزار میٹر کی گہرائی سے پانی کے گرم ہونے کی معلومات بھیجتے ہیں۔
بحرِ اوقیانوس کی گرم دھاروں اور درجہ حرارت میں تبدیلی
اس سروے میں آرگو (Argo) نامی خودکار ڈائیونگ سنسرز نے بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ سنسرز ہر ۱۰ دن بعد ۲ ہزار میٹر کی گہرائی میں جا کر پانی کا معائنہ کرتے ہیں اور سطح پر آ کر سیٹلائٹ کو تمام معلومات بھیج دیتے ہیں جس سے گہرے سمندر کے پوشیدہ راز افشا ہوئے ہیں۔
سمندری حیاتیات دانوں نے سنسرز کے ذریعے سمندر میں آکسیجن کی مقدار بھی ناپی جس سے معلوم ہوا کہ پانی گرم ہونے کی وجہ سے گہرے سمندر میں آکسیجن کم ہو رہی ہے جس سے مچھلیوں کی نقل و حرکت اور مچھلیوں کی خوراک کا نظام متاثر ہو رہا ہے۔
ساحلی شہروں کی حفاظت کے لیے سائنسدانوں نے سمندری دھاروں کے نقشوں کو ساحلی نقشوں سے جوڑ دیا ہے۔ اب بلدیاتی ادارے اس ڈیٹا کی مدد سے سمندری طوفانوں سے بچاؤ کے لیے مضبوط بند اور دیواریں بنا سکتے ہیں اور بندرگاہوں کی حفاظت کر سکتے ہیں۔
ساحلی علاقوں کی حفاظت اور موسمیاتی پالیسی
تمام سائنسی ڈیٹا کو اقوامِ متحدہ کے سمندری کمیشن کے پورٹل پر بالکل مفت اپ لوڈ کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اس معلومات کی مدد سے موسم کی پیش گوئی کرنے والے کمپیوٹر ماڈلز کو بہتر بنا رہے ہیں تاکہ پہلے سے بارشوں کا پتہ چل سکے۔
جدید کمپیوٹر ماڈلز بتاتے ہیں کہ سمندری دھاریں ساحلی طوفانوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں۔
الائنس نے اب قطبِ شمالی اور قطبِ جنوبی کی پگھلتی ہوئی برفانی چٹانوں کے نیچے سنسرز لگا کر اگلے ۵ سالہ منصوبے کا اعلان کیا ہے تاکہ سمندر کی سطح بلند ہونے کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
اس عالمی نقشے کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ زمین کے ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے عالمی سائنسی تعاون کتنا ضروری ہے۔ سمندری رازوں کو سمجھنا ہی ساحلی آبادیوں کے محفوظ مستقبل کی ضامن ہے اور انسان کا فرض ہے۔