قدرتی آفات، جنگوں اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نایاب تاریخی نوادرات کو بچانے کے لیے دنیا کے ۵۰ بڑے عجائب گھروں نے مل کر 'گلوبل ہیریٹیج آرکائیو' کا افتتاح کیا ہے۔ ۳۰ ممالک کے ماہرین پر مشتمل اس پروجیکٹ کے تحت ۵ ہزار سے زائد قدیم تاریخی نوادرات اور عمارتوں کے انتہائی باریک تھری ڈی ڈیجیٹل ماڈلز بنا لیے گئے ہیں تاکہ انسانی تاریخ محفوظ رہے۔
اس منصوبے میں غیر نقصان دہ تھری ڈی لیزر اسکینرز اور ملٹی اسپریکٹرل کیمرے استعمال کیے گئے ہیں جو نوادرات کے ڈیزائن، لکڑی کی ساخت اور رنگت کو صرف ۱۵ مائیکرون کی باریکی تک ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ اس ذخیرے میں پرانے زمانے کی مٹی کی تختیان، قدیم دستی نسخے، لکڑی کے مجسمے اور ساحلی یادگاریں شامل ہیں جو انسائیت کا نایاب سرمایہ ہیں۔
تھری ڈی لیزر اسکیننگ اور ملٹی اسپریکٹرل کیمرہ ٹیکنالوجی
ڈیجیٹل آرکائیو کو جعلی ماڈلز سے محفوظ رکھنے کے لیے ہر تھری ڈی ماڈل کو بلاک چین ٹیکنالوجی پر رجسٹر کیا گیا ہے۔ یہ ڈیجیٹل سند یہ تصدیق کرتی ہے کہ اسکین کب، کس نے اور کس عجائب گھر میں کیا تھا جس سے جعلی تصاوید کا خاتمہ ممکن ہو گیا ہے۔
ثقافتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملٹی اسپریکٹرل کیمروں نے پرانی تحریروں کے وہ راز افشا کیے ہیں جو عام آنکھ سے نظر نہیں آتے تھے۔ کئی قدیم کتابوں میں پینٹ کی تہوں کے نیچے چھپے ہوئے تاریخی الفاظ اور ڈرائنگز کو دوبارہ پڑھ لیا گیا ہے جس سے نئی سائنسی معلومات ملی ہیں۔
ملٹی اسپریکٹرل کیمروں کی مدد سے پرانی تحریروں کے مٹے ہوئے الفاظ دوبارہ پڑھے گئے۔
بلاک چین تصدیق اور اوپن ڈیجیٹل ڈیش بورڈ
یہ تمام ڈیجیٹل ڈیٹا تعلیمی اور تحقیقی مقاصد کے لیے انٹرنیٹ پر بالکل مفت دستیاب ہے۔ دنیا بھر کے سائنسدان اور تاریخ دان ان ماڈلز کو ڈاؤن لوڈ کر کے قدیم دور کے فنِ تعمیر اور رنگوں کا سائنسی جائزہ لے سکتے ہیں جس سے تحقیق کے نئے راستے کھلے ہیں۔
تحقیق کے علاوہ یہ ڈیجیٹل ماڈلز کسی بھی حادثے کی صورت میں بیمہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر خدا نخواستہ کوئی قدیم عمارت یا مجسمہ زلزلے یا آگ سے تباہ ہو جائے تو ان ماڈلز کی بدولت تھری ڈی پرنٹرز سے اس کی بالکل سچی کاپی بنائی جا سکتی ہے اور ورثہ بچایا جا سکتا ہے۔
ترقی پذیر ملکوں کے عجائب گھروں کو اسکیننگ کا سامان اور مالی امداد دی گئی ہے تاکہ وہ اپنے ملک کی نایاب اشیاء کو خود ڈیجیٹل کر سکیں۔ اس سے ہر ملک کو اپنے ثقافتی ورثے پر پورا کنٹرول حاصل رہے گا اور معلومات کا تبادلہ آسان ہوگا۔
قدرتی آفات سے تحفظ اور تاریخی تحقیق کے فوائد
عجائب گھروں نے ان تھری ڈی ماڈلز کو عوامی نمائش کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ سیاح اب سمارٹ گلاسز اور کنٹرولرز کے ذریعے ۳ ہزار سال پرانے برتنوں کو بغیر چھوئے اپنے ہاتھوں میں گھما کر دیکھ سکتے ہیں اور اصل اشیاء کو نقصان بھی نہیں پہنچتا۔
اوپن ڈیجیٹل آرکائیو سے دنیا بھر کے ماہرین نوادرات کی باریکیوں کی تحقیق کر سکتے ہیں۔
اگلے مرحلے میں اس منصوبے کو نایاب بول چال کی زبانوں، روایتی موسیقی اور قدیم رقص کے فن کو محفوظ کرنے کے لیے پھیلایا جا رہا ہے تاکہ غیر مادی ورثہ بھی ڈیجیٹل آرکائیو میں محفوظ ہو سکے۔
گلوبل ہیریٹیج آرکائیو کا قیام ثابت کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پرانی تہذیبوں اور آنے والی نسلوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کر سکتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ انسانی تاریخ پوری دنیا کا مشترکہ سرمایہ ہے اور اس کی حفاظت سب کی ذمہ داری ہے۔