عالمی خلائی اداروں اور زمین پر قائم رصد گاہوں کے مشترکہ پینل نے کائنات کے ابتدائی دور کا اب تک کا سب سے مکمل اور تفصیلی فلکیاتی سروے جاری کیا ہے۔ اس سروے میں جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ کے انفرا ریڈ ڈیٹا اور چلی میں قائم آلما (ALMA) ریڈیو ڈشز کی معلومات کو یکجا کیا گیا ہے جس سے علمِ فلکیات میں ایک نیا انقلاب برپا ہو گیا ہے۔
اس سروے میں ایک لاکھ سے زائد قدیم کہکشاؤں کا احاطہ کیا گیا ہے جن کی روشنی ۱۳ ارب سال سے زائد کا سفر طے کر کے زمین تک پہنچی ہے۔ اس ڈیٹا کی مدد سے سائنسدانوں کو بگ بینگ کے صرف ۸۰۰ ملین سال بعد کہکشاؤں اور ستاروں کے بننے کے عمل کا باریک بینی سے مشاہدہ کرنے کا موقع ملا ہے اور کائنات کی شروعات کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔
خلائی دوربینوں کے ڈیٹا کی یکجائی اور جدید تجزیہ
سائنسدانوں نے اپنے نتائج میں بتایا ہے کہ کائنات کے ابتدائی دور میں کہکشائیں اور ستارے پہلے سے طے شدہ نظریات کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے وجود میں آ رہے تھے۔ سپیکٹروسکوپک جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ بڑے نیلے ستارے کاربن اور آکسیجن جیسے وزنی عناصر بنا رہے تھے جس سے فلکیاتی نظریات بدل گئے ہیں۔
اس سروے کا سب سے حیران کن انکشاف یہ تھا کہ ابتدائی دور کی ان چھوٹی کہکشاؤں کے مرکز میں انتہائی بڑے بلیک ہولز موجود تھے۔ ایک ارب سورج کے برابر کمیت والے بلیک ہولز کا اتنی جلدی وجود میں آنا فلکیات کے پرانے نظریات کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے جس پر مزید تحقیق جاری ہے۔
ریڈیو رصد گاہوں نے کائنات کے ابتدائی ہائیڈروجن گیس کے بادلوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا۔
ابتدائی کہکشاؤں کی تشکیل اور بلیک ہولز کا انکشاف
اس پروجیکٹ پر ۲ ہزار گھنٹے سے زیادہ کا ٹیلی سکوپ ٹائم صرف ہوا۔ مصنوعی ذہانت کے جدید ترین الگورتھمز نے پٹا بائٹس کے ڈیٹا سے فالتو روشنی کو ہٹا کر دھندلی کہکشاؤں کی صاف تصویریں بنائیں جو پہلے کبھی دیکھنا ممکن نہیں تھا۔
سائنسدانوں نے بتایا کہ خلائی اور زمینی رصد گاہوں کا ملاپ اس کامیابی کا راز ہے۔ انفرا ریڈ کیمرے دھول کے بادلوں کے آر پار دیکھ کر ستاروں کی روشنی پکڑتے ہیں جبکہ ریڈیو ڈشز ٹھنڈی گیس کا ڈیٹا اکٹھا کرتی ہیں جس سے نئے ستارے بنتے ہیں اور پورا منظر صاف ہو جاتا ہے۔
عالمی سائنس کو فروغ دینے کے لیے ۵۰ ٹیرابائٹ کا تمام ڈیٹا انٹرنیٹ پر ایک اوپن کلاؤڈ آرکائیو کے ذریعے مفت فراہم کر دیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے یونیورسٹیز، طالب علم اور محققین اس ڈیٹا کو بغیر کسی پابندی کے استعمال کر سکتے ہیں جس سے سائنس عام ہوئی ہے۔
اوپن سائنس ڈیٹا بیس اور عالمی ریسرچ کا مواقع
تعلیمی اداروں نے اس ۳ ڈی فلکیاتی ڈیٹا کو اپنے نصاب کا حصہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ طلباء ورچوئل ریئلٹی کی مدد سے کہکشاؤں کے ٹکرانے کے منظر کا تجربہ کر سکتے ہیں اور خلائی سائنس میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
سائنسدانوں نے انفرا ریڈ اور ریڈیو معلومات کو ملا کر ستارے بننے کی رفتار کا حساب لگایا۔
سائنسدان اب اس سروے کو آنے والی نئی خلائی دوربینوں نینسی گریس رومن اور اسکوائر کلومیٹر ایرے کے ڈیٹا سے جوڑنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ کائنات کے پہلے ستارے کی چمکنے کا وقت معلوم کیا جا سکے اور کائنات کی پہلی روشنی کو پکڑا جا سکے۔
اس مشترکہ سروے کا اجرا بین الاقوامی سائنسی تعاون کا ایک روشن ثبوت ہے۔ دنیا بھر کی رصد گاہوں کو ایک ساتھ جوڑ کر انسان نے کائنات کی تخلیق کے پردے میں چھپے رازوں کو سمجھنے کی طرف ایک بڑا قدم اٹھایا ہے جو انسائیت کی بڑی کامیابی ہے۔