دنیا کے ۴۰ بڑے میٹروپولیٹن شہروں کی قیادت نے شدید گرمی کے لہروں سے شہریوں کو بچانے کے لیے ایک تاریخی عالمی معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ عالمی سمٹ میں منظور ہونے والے اس معاہدے کے تحت ہیٹ ویو وارننگ کے ایک جیسے معیارات، نئی عمارتوں پر ٹھنڈی چھتوں کی لازمی شرط اور درخت لگانے کی مہم شروع کی جائے گی تاکہ شہریوں کی حفاظت ممکن ہو سکے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے شہروں میں گرمی کا شدت پکڑنا ایک بڑا طبی مسئلہ بن چکا ہے جہاں کنکریٹ کی عمارات اور سڑکیں حرارت کو جذب کر کے درجہ حرارت میں بے پناہ اضافہ کر دیتی ہیں۔ سیٹلائٹ کی حرارتی تصویروں سے معلوم ہوا ہے کہ بغیر درختوں والے علاقوں کا درجہ حرارت دیہی علاقوں سے ۱۲ ڈگری زیادہ ہوتا ہے جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔
ہیٹ ویو کے لیے یکساں وارننگ سسٹم اور حرارتی نقشے
معاہدے کے تحت چار درجات پر مشتمل بین الاقوامی ہیٹ وارننگ سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔ اس کی بدولت تمام شہروں کے امدادی ادارے، ہیلتھ کلینکس اور ٹھنڈے پانی کے مراکز ایک ہی وقت میں ایک جیسے طریقہ کار کے تحت کام شروع کر سکیں گے اور شہریوں کو بروقت مدد فراہم کی جائے گی۔
نئے تعمیراتی قوانین کے تحت چار منزل سے اونچی ہر نئی کمرشل عمارت کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ چھتوں پر سفید حرارت سے بچانے والا پینٹ لگائیں یا پودے اگائیں۔ تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ اس سے عمارت کے اندر کا درجہ حرارت کم رہتا ہے اور اے سی کی بجلی بچتی ہے جس سے پاور گرڈ پر بوجھ نہیں پڑتا۔
متاثرہ علاقوں میں پانی کی سہولت اور ہوا کو ٹھنڈا کرنے والے شیڈز لگائے جا رہے ہیں۔
ٹھنڈی چھتوں کی پالیسی اور درختوں کی تعداد میں اضافہ
تمام شریک شہروں نے ۲۰۳۵ء تک ہر رہائشی علاقے میں ۳۰ فیصد رقبے پر درخت اگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سب سے پہلے ان غریب اور گنجان علاقوں میں درخت لگائے جائیں گے جہاں پہلے چھاؤں اور صاف ہوا کی شدید کمی تھی تاکہ ماحولیاتی انصاف قائم ہو۔
صحت کے ماہرین نے بتایا کہ شدید گرمی سب سے زیادہ بچوں، بزرگوں اور کھلے آسمان تلے کام کرنے والے مزدوروں کو متاثر کرتی ہے۔ معاہدے کے تحت شدید ہیٹ ویو کے دوران کسی بھی شہری کی بجلی بل نہ بھرنے پر منقطع کرنے پر پابندی ہوگی تاکہ غریب گھرانے اے سی اور پنکھے چلاتے رہیں۔
اس بڑے بنیادی ڈھانچے کی مالی معاونت کے لیے اربوں ڈالر کا عالمی گرین فنڈ قائم کیا گیا ہے جو گرم اور ترقی پذیر ملکوں کے شہروں کو آسان شرائط پر قرضے اور تکنیکی مدد فراہم کرے گا تاکہ فنڈز کی کمی آڑے نہ آئے۔
عوامی صحت کا تحفظ اور گرین فنڈ کا قیام
اس منصوبے میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی شامل ہے۔ بس اسٹاپس اور عوامی مقامات پر ہیٹ سینسرز لگائے جا رہے ہیں جو درجہ حرارت بڑھنے پر خودکار طریقے سے ٹھنڈے پانی کے فوارے چلا دیں گے جس سے مسافروں کو فوری راحت ملے گی۔
حرارتی نقشوں کی مدد سے ان مقامات کی نشاندہی ہوئی جہاں درجہ حرارت سب سے زیادہ تھا۔
دنیا بھر کے ماہرینِ تعمیرات نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف انسانی جانیں بچیں گی بلکہ گرمیوں کے موسم میں پاور گرڈز پر بھی بوجھ کم ہوگا اور معاشی بچت ہوگی۔
دنیا کے ۴۰ بڑے شہروں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایک بڑا پیش رفت ہے۔ اگلے دو سالوں میں مزید ۶۰ شہروں کو اس اتحادی معاہدے میں شامل کیا جائے گا تاکہ پوری دنیا محفوظ ہو سکے۔