جاپان کی وزار تِ توانائی اور اعلیٰ تعلیمی اداروں نے مل کر فوکوشیما کے ساحل کے قریب سمندری قابلِ تجدید توانائی کے ایک عظیم الشان تحقیقی مرکز کا باقاعدہ افتتاح کیا ہے۔ ساحل سے ۱۵ کلومیٹر دور قائم یہ مرکز سمندر کے اندر تیرنے والی ونڈ ٹربائنز اور پاور گرڈ کو مستحکم بنانے کی جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کرے گا۔ اس پروجیکٹ سے جاپان کی قومی توانائی کی خودمختاری کو بڑی طاقت ملے گی اور پاک توانائی کی پیداوار میں اضافہ ہوگا۔
اس مرکز میں ۱۵ میگاواٹ کی تین جدید ترین ونڈ ٹربائنز نصب کی گئی ہیں جو ۱۰۰ میٹر گہرے سمندر میں تیرتے ہوئے لوہے کے فریموں پر قائم ہیں۔ یہ تیرتے ہوئے پلیٹ فارم اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں کہ بحرِ الکاہل کے شدید سمندری طوفانوں، بڑی لہروں اور زلزلوں کے جھٹکوں کا باآسانی مقابلہ کر سکتے ہیں۔ جدید سینسرز طوفان میں بھی ٹربائن کا توازن قائم رکھتے ہیں اور تیز ہواؤں میں بھی بجلی بناتے رہتے ہیں۔
ونڈ ٹربائنز کی ساخت اور ہائی وولٹیج پاور گرڈ کا نظام
پروجیکٹ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہاں سے پیدا ہونے والی بجلی کو زیرِ سمندر اعلیٰ طاقت کی کیبلز کے ذریعے ساحل پر قائم ۲۰۰ میگاواٹ گھنٹہ کی گنجائش والے بیٹری اسٹوریج سینٹر تک پہنچایا جاتا ہے جو بجلی کی فراہمی میں اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس نظام سے ہزاروں گھروں کو بلا تعطل بجلی مل رہی ہے اور نظام مستحکم ہوا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ ۲۰۵۰ء تک کاربن کے اخراج کو صفر پر لانے کے لیے جاپان کے پاس سمندری ہوا سے بجلی بنانا سب سے بہترین حل ہے۔ جاپان کے ساحلی پانی گہرے ہیں جس کی وجہ سے تیرنے والی ونڈ ٹربائنز مستقبل کی توانائی کی ضروریات پوری کر سکتی ہیں۔ جاپانی ساحلوں پر ۱۲۸ گیگاواٹ بجلی بنانے کی صلاحیت موجود ہے جو ملک کی مجموعی ضرورت سے زیادہ ہے۔
بڑی گنجائش کی بیٹریاں شمسی اور ہوا کی توانائی کو ذخیرہ کر کے گرڈ کو مستحکم رکھتی ہیں۔
زیرِ سمندر کیبلز اور صنعتی بیٹری اسٹوریج کی آزمائش
اس مرکز میں سمندری نمک سے دھاتوں کو زنگ لگنے سے بچانے کی لیبارٹری بھی بنائی گئی ہے۔ سائنسدان ایسے کیمیکلز اور مضبوط رسیوں پر تحقیق کر رہے ہیں جس سے سمندری آلات کی کارآمد عمر کو ۲۰ سال سے بڑھا کر ۳۰ سال تک کیا جا سکے۔ سمندری پودوں کو رسیوں پر جمنے سے روکنے کی تکنیک پر بھی کام جاری ہے جس سے دیکھ بھال کا خرچ کم ہوگا۔
دو سالہ ماحولیاتی جائزے کے مطابق اس پروجیکٹ سے سمندری حیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ سمندر کے اندر لگائے گئے کیمروں اور سینسرز سے معلوم ہوا ہے کہ لہروں پر تیرتے ہوئے لوہے کے ڈھانچے مچھلیوں کے لیے مصنوعی پناہ گاہیں بن چکے ہیں جس سے مچھلیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور ماحولیاتی فائدہ پہنچا ہے۔
فوکوشیما کے مقامی ماہی گیروں کو اس پروجیکٹ کی منصوبہ بندی میں شامل رکھا گیا تھا۔ توانائی بنانے والی کمپنیوں نے ایک مشترکہ فنڈ قائم کیا ہے جو مقانی بندرگاہوں کی مرمت اور مچھلی پالنے کے نئے فارمز کے لیے مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔ اس عوامی ماڈل کی دنیا بھر میں تعریف کی جا رہی ہے اور یہ دوسرے منصوبوں کے لیے مثال بن گیا ہے۔
ماحولیاتی فائدے، قومی پالیسی اور علاقائی معیشت کی بحالی
گرڈ اپریٹرز نے ہوا کی رفتار کی پیش گوئی کرنے والے مصنوعی ذہانت کے سافٹ ویئر کی کامیاب آزمائش کی ہے۔ اس سافٹ ویئر کی بدولت طوفانی ہواؤ ں کے دوران بھی بجلی کے گرڈ میں کوئی وولٹیج کا مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ خودکار سسٹم بجلی کے گرڈ کو ٹرپ ہونے سے بچاتا ہے اور فیکٹریوں کو لگاتار بجلی ملتی رہتی ہے۔
سائنسدان سمندری زنگ سے بچاؤ کی کوٹنگ اور زیرِ سمندر کیبلز کے سینسرز کی آزمائش کر رہے ہیں۔
اس پروجیکٹ نے بین الاقوامی سطح پر برطانیہ، ڈنمارک اور امریکہ کے ماہرین کی توجہ حاصل کی ہے۔ بیرونِ ملک سے آئے ہوئے وفود نے فوکوشیما کے ساحل کا دورہ کر کے جاپانی ٹیکنالوجی کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ جاپان کے بنائے گئے معیارات اب عالمی اداروں میں شامل کیے جا رہے ہیں جو دنیا بھر کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
دنیا بھر میں گرین انرجی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر یہ مرکز جاپان کی قومی سلامتی اور توانائی کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکام کا اندازہ ہے کہ اس منصوبے سے اگلے دس سالوں میں ۱۲ ہزار نئی نوکریاں پیدا ہوں گی اور فوکوشیما پاک توانائی کا عالمی مرکز بن جائے گا جس سے علاقائی معیشت مضبوط ہوگی۔