یوکوہاما پورٹ اتھارٹی نے بین الاقوامی جہاز رانی کی کمپنیوں کے ساتھ مل کر اپنے چھ ماہ کے کم اخراج والے لاجسٹکس منصوبے کی پائلٹ آزمائش کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی ہے۔ اس پروجیکٹ میں بیٹری سے چلنے والی بوٹس، الیکٹرک کارگو ٹرک اور مصنوعی ذہانت پر مبنی لاجسٹکس سافٹ ویئر شامل تھا جس سے بندرگاہوں کے آپریشنز کا نیا معیار قائم ہوا ہے اور ماحول پر مثبت اثرات پڑے ہیں۔
پورٹ انتظامیہ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں بندرگاہ کے آپریشنز سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں ۲۴ فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ فضا کو آلودہ کرنے والی دیگر گیسوں میں ۴۰ فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی جس سے قریب کی آبادیوں کو صاف ہوا میسر آئی ہے اور بیماریاں کم ہوئی ہیں۔
بندرگاہ کی گاڑیوں اور ٹگ بوٹس کی الیکٹریفکیشن
اس منصوبے کا اہم ترین حصہ جاپان کی پہلی مکمل برقی ٹگ بوٹ کا استعمال تھا جس میں ۳.۵ میگاواٹ گھنٹہ کی طاقتور بیٹری نصب ہے۔ اس بوٹ نے بڑے بحری جہازوں کو بغیر کوئی دھواں چھوڑے اور بغیر کسی شور کے بندرگاہ پر ڈوک کرنے میں مدد فراہم کی جس سے سمندری ماحول اور مچھلیوں کی حفاظت ممکن ہوئی۔
بندرگاہ کی زمین پر روایتی ڈیزل ٹرکوں کی جگہ الیکٹرک گاڑیوں نے لے لی ہے۔ یہ خودکار ٹرک کنٹینرز کو بحری جہازوں سے ٹرینوں کے سامان لوڈ کرنے والے اسٹیشنز تک پہنچاتے ہیں اور وقفے کے دوران فاسٹ چارجر کے ذریعے ری چارج ہوتے ہیں تاکہ ۲۴ گھنٹے کام جاری رہے اور تاخیر نہ ہو۔
بیٹری پر چلنے والے ٹریکٹر کنٹینرز کو بحری جہاز سے ٹرین تک منتقل کرتے ہیں۔
آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے لاجسٹکس اور ٹرکوں کا اسمارٹ شیڈول
ایک جدید ڈیجیٹل سسٹم کی مدد سے باہر سے آنے والے سامان والے ٹرکوں کے ٹائم ٹیبل کو باقاعدہ بنایا گیا جس کی وجہ سے ٹرکوں کے انتظار کا اوسط وقت ۵۵ منٹ سے کم ہو کر صرف ۱۴ منٹ رہ گیا ہے اور ہزاروں گیلن ڈیزل کی بچت ہوئی ہے جس سے کاروباری لاگت گھٹی ہے۔
اس کے علاوہ بندرگاہ پر کھڑے جہازوں کو ساحل سے بجلی فراہم کرنے کے لیے پاور گرڈ بھی بنایا گیا تاکہ وہ بندرگاہ پر کھڑے ہو کر اپنے ڈیزل جنریٹرز بند رکھ سکیں اور بندرگاہ کی فضا دھویں سے پاک رہے جس سے ہوا کی کوالٹی میں تاریخی بہتری آئی۔
ماحولیاتی ماہرین نے بتایا کہ جنریٹرز کے شور میں کمی سے سمندری حیات اور مچھلیوں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور سمندری جانور دوبارہ بندرگاہ کے پانیوں میں لوٹ آئے ہیں جس سے سمندری حیات پھل پھول رہی ہے۔
ماحولیاتی نتائج اور عالمی گرین پورٹ کے معیارات
مقامی کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان نے اس نظام کو سراہا ہے کیونکہ اس کی بدولت الیکٹرانک آلات اور گاڑیوں کے پرزوں کی ترسیل میں لگنے والا وقت کم ہو گیا ہے جس سے فیکٹریوں کو بروقت سامان مل رہا ہے اور پیداوار تیز ہوئی ہے۔
اسمارٹ شیڈولنگ سے ڈیزل ٹرکوں کے انتظار کا وقت اور دھواں کم ہوا ہے۔
اس پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد جاپانی حکومت نے یوکوہاما کو ملک کی پہلی ماڈل گرین پورٹ قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے اور دیگر بندرگاہوں کو بھی اس پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ پورے ملک میں پورٹس کی الیکٹریفکیشن ہو اور جاپان ماحولیات میں آگے بڑھے۔
سنگاپور، روٹرڈیم اور لاس اینجلس کی بندرگاہوں نے یوکوہاما کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ کیا ہے تاکہ دنیا بھر میں گرین شپنگ کے یکساں قوانین لاگو کیے جا سکیں اور بین الاقوامی تجارت کو پاکیزہ بنایا جا سکے جس سے پوری دنیا کو فائدہ ہو۔