پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے لاہور شہر کی مصروف ترین شاہراہوں پر ٹریفک کا رش کم کرنے کے لیے ایک جدید سمارٹ ٹریفک سگنل پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ فیروز پور روڈ اور مین بلیوارڈ گلبرگ پر قائم اس نظام میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس سنسرز اور کیمرے استعمال کیے گئے ہیں جو گاڑیوں کی تعداد کے حساب سے سگنل کا وقت طے کرتے ہیں اور ٹرانسپورٹ کے نظام کو جدید بناتے ہیں۔
اس نظام کی نصب کاری سے پہلے لاہور کے چوراہوں پر پرانے ٹائمرز کی وجہ سے گھنٹوں ٹریفک جام رہتا تھا کیونکہ ایک طرف گاڑیوں کی لمبی قطار ہوتی تھی جبکہ دوسری طرف سگنل گرین رہتا تھا۔ اب نیا کمپیوٹرائزڈ سسٹم ہر ۱۵ سیکنڈ میں ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لے کر سگنل کا وقت خود بخود تبدیل کر دیتا ہے جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں نہیں بنتیں۔
سگنل ٹیکنالوجی اور سنسرز نیٹ ورک کی ساخت
ابتدائی دو ہفتوں کے ٹریفک ڈاٹ سے معلوم ہوا ہے کہ ۱۲ بڑے چوراہوں پر گاڑیوں کی ترسیل کی رفتار میں ۳۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ایمبولینسز اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں کے لیے سسٹم میں ایمرجنسی پروٹوکول شامل ہے جو ان کے پہنچنے سے ۴۰۰ میٹر پہلے سگنل گرین کر دیتا ہے جس سے انسانی جانیں بچانے میں مدد مل رہی ہے۔
سگنلز کے کھمبوں پر موسم کی شدت برداشت کرنے والے ایچ ڈی کیمرے اور سینسرز لگائے گئے ہیں۔ یہ کیمرے گاڑیوں کی گنتی کرتے ہیں اور ٹریفک کنٹرول روم کو مسلسل معلومات بھیجتے رہتے ہیں جہاں ماہرین پورے شہر کی ٹریفک کا جائزہ لیتے ہیں۔
ریڈار اور کیمرے ہر ۱۵ سیکنڈ میں گاڑیو ں کی قطار کی لمبائی کا حساب لگاتے ہیں۔
ٹریفک کی رفتار میں بہتری اور ایمرجنسی خدمات
میٹرو بس اور دیگر عوامی سفری سہولیات کے وقت میں بھی بہتری آئی ہے۔ گرین ویو سسٹم کی بدولت بسوں کا سفر اب پہلے سے کہیں زیادہ تیز اور باقاعدہ ہو گیا ہے جس سے مسافروں کو روزانہ ۱۸ منٹ کی بچت ہوتی ہے اور لوگ عام گاڑیوں کی جگہ بسوں کا استعمال کر رہے ہیں۔
لاہور کے شہریوں اور کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے اس نئے نظام کی تعریف کی ہے۔ بار بار گاڑی روکنے اور چلانے کی زحمت ختم ہونے سے ایندھن کی بچت ہو رہی ہے اور ذہنی تناؤ میں کمی آئی ہے جس سے روزمرہ کے سفری اخراجات میں کمی آئی ہے۔
محکمہ ماحوليات پنجاب کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سگنلز پر گاڑیوں کے کھڑے رہنے کا وقت کم ہونے کی وجہ سے فضا میں دھویں اور نقصان دہ گیسوں کے اخراج میں ۱۵ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے شہر میں اسموگ کے مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔
ماحولیاتی فوائد اور دیگر شہروں میں توسیع کا پلان
حکام کا کہنا ہے کہ سڑکیں چوڑی کرنے کے پرانے اور مہنگے طریقوں کے مقابلے میں یہ ڈیجیٹل سسٹم انتہائی کم لاگت اور کارآمد ثابت ہوا ہے۔ اس سے حکومت کو نہ تو اضافی زمین خریدنی پڑی اور نہ ہی تعمیراتی کام کا ششور سہنا پڑا اور معیشت بھی بچ گئی۔
پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے انجینئرز مرکزی کنٹرول روم سے سگنل سسٹم کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اگلے مرحلے میں اس سمارٹ سگنل سسٹم کو لاہور کے مزید ۴۵ چوراہوں بشمول کنال روڈ اور مال روڈ تک پھیلایا جائے گا۔ کراچی اور راولپنڈی کے ٹریفک انجینئرز نے بھی کنٹرول روم کا دورہ کر کے اس سسٹم کا جائزہ لیا ہے تاکہ اپنے شہروں میں اسے لگا سکیں۔
لاہور کا یہ سمارٹ ٹریفک ماڈل پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے لیے ایک بہترین مثال بن کر سامنے آیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کا یہ استعمال آنے والے دنوں میں ملک کی پوری ٹرانسپورٹ کی شکل بدل دے گا اور عوام کا سفر آسان بنائے گا۔