پنجاب کے زیرِ زمین پانی کی کمی کا مقابلہ کرنے کے لیے محکمہ زراعت پنجاب نے ملتان، فیصل آباد اور ساہیوال میں ڈرپ آبپاشی کے نمائشی پروجیکٹس شروع کیے ہیں۔ اس منصوبے نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے پانی کی بچت کے ساتھ ساتھ فصل کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اور یہ پاکستان کی زراعت کا روشن مستقبل ہے۔
روایتی طور پر پنجاب میں کھیتوں کو پانی سے بھرنے کے پرانے طریقے سے ۶۰ فیصد پانی ضائع ہو جاتا تھا۔ اس کے مقابلے میں ڈرپ سسٹم کے باریک پائپ پودے کی جڑ میں ضرورت کے مطابق قطرہ قطرہ پانی اور کھاد پہنچاتے ہیں جس سے پانی کا ضیاع ختم ہو جاتا ہے اور پودے کو پوری غذا ملتی ہے۔
ڈرپ ٹیکنالوجی اور سولر ٹیوب ویل کا نظام
زرعی ماہرین کے مطابق گندم اور کپاس کی فصل کے دوران پانی کے استعمال میں ۴۰ فیصد کی تاریخی کمی دیکھی گئی جبکہ مسلسل نیمی ملنے کی وجہ سے پیداوار میں ۱۵ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
اس نظام کو چلانے کے لیے سولر پینلز پر چلنے والے ٹیوب ویل لگائے گئے ہیں۔ اس گرین انرجی کی بدولت کسانوں کو مہنگے اور آلودگی پھیلانے والے ڈیزل سے نجات مل گئی ہے اور فصل کی لاگت میں ۷۰ فیصد کمی آئی ہے جس سے کسان خوشحال ہو رہے ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق پانی کی کھپت میں ۴۰ فیصد کمی آئی لیکن پیداوار متاثر نہیں ہوئی۔
پانی کی بچت اور کھاد کی افادیت کے نتائج
کھیتوں میں مٹی کی نمی ناپنے والے سینسرز لگائے گئے ہیں جو اردو موبائل ایپ کے ذریعے کسان کو آگاہ کرتے ہیں۔ کسان بٹن دبا کر جڑوں کو کھاد اور پانی کی مقدار فراہم کر سکتا ہے اور غلط فیصلوں سے بچ سکتا ہے۔
اس پروجیکٹ میں شامل کسانوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا ہے کہ کھیتوں سے جڑی بوٹیاں تلف کرنے اور پانی دینے کی محنت آدھی رہ گئی ہے جس سے کسانوں کے وقت کی بچت ہو رہی ہے اور وہ دیگر کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
پانی کے ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے ڈرپ آبپاشی کو پورے ملک میں پھیلانا ضروری ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ندی نالوں اور زیرِ زمین پانی میں کمی آ رہی ہے اور تحفظ ضروری ہے۔
معاشی فائدے اور سرکاری سبسڈی کا منصوبہ
حکومتِ پنجاب نے چھوٹے کسانوں کے لیے ڈرپ آبپاشی کے سامان پر ۶۰ فیصد سبسڈی کا اعلان کیا ہے جبکہ زرعی بینک باقی رقم کے لیے آسان اقساط پر قرضے فراہم کر رہے ہیں تاکہ ہر غریب کسان اسے خرید سکے۔
سولر ٹیوب ویل کی بدولت چھوٹے کسان مہنگے ڈیزل کے بغیر آبپاشی کر رہے ہیں۔
عالمی زرعی اداروں نے مقامی یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر ڈرپ سسٹم کی مرمت کے لیے ٹریننگ سینٹرز قائم کیے ہیں جہاں دیہی نوجوانوں کو سولر پمپ اور پائپوں کی مرمت سکھائی جا رہی ہے جس سے روزگار مل رہا ہے۔
پنجاب میں ڈرپ آبپاشی کی یہ کامیابی پاکستان کی زراعت کے لیے ایک انقلابی موڑ ثابت ہو رہی ہے۔ زرعی رہنماؤں کو امید ہے کہ اس سے آنے والی نسلوں کے لیے خوراک کا تحفظ یقینی ہو جائے گا اور زراعت جدید ترین بنے گی۔