وزارتِ صحت نے اسلام آباد کے بنیادی مراکزِ صحت میں عوامی سہولت کے لیے خدمات کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ شہر کے ۶ کمیونٹی ہیلتھ کلینکس کے اوقات رات ۱۰ بجے تک بڑھا دیے گئے ہیں اور وہاں ویڈیو لنک کے ذریعے بڑے اسپتالوں کے ماہر ڈاکٹروں سے مشورے کا نظام قائم کر دیا گیا ہے جس سے غریب طبقے کو علاج کی بہترین سہولت ملی ہے۔
اس سے پہلے یہ کلینکس صرف صبح کے وقت کھلتے تھے جس کی وجہ سے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور دفتر کے ملازمین کو علاج کے لیے اپنی دہاڑی چھوڈنی پڑتی تھی۔ شام کی نئی شفٹ کی بدولت اب محنت کش طبقہ اپنے کام سے فارغ ہو کر مفت علاج کروا سکتا ہے اور ان کی دہاڑی بھی نہیں ٹوٹتی۔
کلینکس کے وقت میں توسیع اور نائٹ شفٹ کا فریم ورک
پہلے مہینے کی رپورٹ کے مطابق کلینکس میں مریضوں کی آمد میں ۴۵ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ شام کے وقت زیادہ تر بچوں کی بیماریاں، خواتین کی صحت کی دیکھ بھال اور شوگر و بلڈ پریشر کے مریض معاینے کے لیے آ رہے ہیں جس سے شام کی خدمات کی افادیت ثابت ہوئی ہے۔
ٹیلی میڈیسن سسٹم کے ذریعے ان بنیادی کلینکس کو پمز اسپتال کے سینئر ہارٹ اسپیشلسٹ، بچوں کے ڈاکٹروں اور دیگر ماہرین سے جوڑ دیا گیا ہے۔ ڈاکٹرز کمپیوٹر پر بیٹھ کر مریض کا ای سی جی اور رپورٹس دیکھ کر دوا تجویز کرتے ہیں جس سے محلے کے کلینک میں بڑے اسپتال کا علاج مل رہا ہے۔
شام کے اوقات میں ڈاکٹرز بچوں اور ماؤں کی صحت کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
ٹیلی میڈیسن ٹیکنالوجی اور اسپتالوں کے ماہرین کا رابطہ
شام کے وقت خواتین مریضوں کی سہولت اور تحفظ کے لیے لیڈی ڈاکٹرز، فارماسسٹس اور لیب ٹیکنیشنز کو نائٹ شفٹ میں تعینات کیا گیا ہے تاکہ معیاری علاج یقینی بنایا جا سکے اور خواتین کو بلا جھجھک علاج کی سہولت مل سکے۔
اسلام آباد کے قریبی دیہی علاقوں بھارہ کہو اور ترلائی کے شہریوں نے اس سہولت کو بے حد سراہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گلی محلے میں شام کو کلینک کھلنے سے اب چھوٹے موٹے علاج کے لیے بڑے اسپتالوں کے چکر اور ایمرجنسی کی فیسیں نہیں دینی پڑتیں جس سے پیسے بچ رہے ہیں۔
ان کلینکس کی فارمیسیوں میں تمام ضروری ادویات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ سافٹ ویئر کے ذریعے ادویات کے اسٹاک پر نظر رکھی جاتی ہے تاکہ کسی دوا کی کمی نہ ہو اور انسولین اور اینٹی بائیوٹکس ہر وقت میسر رہیں۔
عوامی صحت پر اثرات اور ملک گیر توسیع کا منصوبہ
صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ محلے کی سطح پر کلینکس کے فعال ہونے سے بڑے اسپتالوں پر مریضوں کا بوجھ کم ہو گیا ہے اور وہاں کے ڈاکٹرز اب سنگین حادثات کے مریضوں پر زیادہ توجہ دے سکتے ہیں جس سے طبی نظام بہتر ہوا ہے۔
ٹیلی میڈیسن لنک کے ذریعے بنیادی کلینک کے عملے کا بڑے اسپتال کے ماہرین سے رابطہ ہوتا ہے۔
اسلام آباد کی کامیابی کے بعد حکومت اگلے سال اس ماڈل کو راولپنڈی، فیصل آباد اور پشاور کے بنیادی مراکزِ صحت میں بھی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ پورے ملک میں عوام کو مفت اور معیاری علاج مل سکے۔
بنیادی صحت کے اس نظام کو جدید بنانا پاکستان کے لیے ایک انقلاب سے کم نہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ گھر کے قریب صحت کی معیاری سہولت ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس پروجیکٹ نے یہ حق ادا کیا ہے۔