محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا نے سوات، دیر اور چترال کے ۲۰۰ سرکاری اسکولوں میں ڈیجیٹل ٹیبلٹ لرننگ پروگرام کی توسیع کی ہے۔ اس منصوبے میں طلبہ کو مضبوط ٹیبلٹس اور سولر چارجنگ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
پہاڑی علاقوں کے اسکولوں میں شدید سردی اور کتابوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے پڑھائی متاثر ہوتی تھی۔ اب ٹیبلٹس میں پشتو اور انگریزی میں سائنس و ریاضی کے اسباق بغیر انٹرنیٹ کے بھی دستیاب ہیں۔
ڈیجیٹل ٹیبلٹ ٹیکنالوجی اور سولر چارجنگ سینٹرز
ابتدائی چھ ماہ کے دوران سائنس اور ریاضی کے نتائج میں ۲۸ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اینیمیٹڈ اسباق کی بدولت بچوں کے لیے مشکل مفاہیم کو سمجھنا آسان ہو گیا ہے۔
لڑکیوں کے اسکولوں پر خصوصی توجہ دی گئی ہے جس سے گرلز اسکولوں میں حاضری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور طالبات میں پڑھائی کا شوق بڑھا ہے۔
تصویری اسباق کی بدولت بچوں کے ریاضی اور سائنس میں نمبروں میں ۲۸ فیصد اضافہ ہوا۔
اردو و پشتو تعلیمی مواد اور اساتذہ کی تربیت
اساتذہ کو ٹیبلٹ کے ذریعے پڑھانے اور بچوں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی ورکشاپس میں تربیت دی گئی ہے۔
اسکولوں کی چھتوں پر لگائے گئے سولر پینلز بجلی کی بندش کے باوجود پڑھائی کا تسلسل برقرار رکھتے ہیں۔
والدین اور اساتذہ کی کمیٹیوں نے اس پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دیہی علاقوں کے بچوں کا ڈیجیٹل شعور بیدار ہو رہا ہے۔
تعلیمی معیار میں بہتری اور لڑکیوں کی شمولیت
حکام اگلے سال قبائلی اضلاع کے پرائمری اسکولوں میں بھی اس سسٹم کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
سولر پینلز کی بدولت شدید سردی اور بجلی کی بندش میں بھی پڑھائی جاری رہتی ہے۔
تعلیمی ماہرین نے خیبر پختونخوا کے اس قدم کو دیہی اور شہری تعلیمی فرق کو ختم کرنے کی سمت میں بہترین پیشرفت قرار دیا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیبلٹس کی فراہمی سے پاکستان کے شمالی علاقوں میں جدید اور یکساں تعلیم کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔