سندھ ماس ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کراچی شہر میں ۱۰۰ جدید ترین الیکٹرک بسوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ بسیں سولر پاور پر چلنے والے چارجنگ ڈیپوز سے چارج ہوتی ہیں اور مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ اور ماحول دوست ہیں۔
اس سے قبل کراچی کی پرانی بسوں سے دھواں نکلتا تھا جو شہر کی فضا کو آلودہ کرتا تھا۔ نئی ۱۲ میٹر طویل الیکٹرک بسیں ایک بار چارج ہونے پر ۲۵۰ کلومیٹر تک کا سفر طے کر سکتی ہیں۔
الیکٹرک بسوں کی ٹیکنالوجی اور سولر چارجنگ ڈیپوز
مرکزی ڈیپوز پر سولر پاور سے صرف ۴۵ منٹ میں بس کی بیٹری ۸۰ فیصد چارج ہو جاتی ہے جس سے بسیں چوبیس گھنٹے روڈ پر فعال رہتی ہیں۔
بسوں میں اسمارٹ کارڈ کے ذریعے کرایہ کی ادائیگی، جی پی ایس لوکیشن ڈسپلے اور بس اسٹاپس پر وقت کی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
سولر پینلز کے ذریعے صرف ۴۵ منٹ میں بس ۸۰ فیصد چارج ہو جاتی ہے۔
مسافروں کی سہولیات اور کرایوں کا نیا نظام
معذور اور بزرگ افراد کے لیے لو فلور اینٹری اور ویل چیئر ریمپ کی سہولت موجود ہے تاکہ ہر شہری آسانی سے سفر کر سکے۔
الیکٹرک بسوں کے راستوں پر لگائے گئے آلات سے معلوم ہوا ہے کہ ہوا میں نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ اور دھویں کے تناسب میں ۲۰ فیصد کمی آئی ہے۔
ڈیزل کے مقابلے میں الیکٹرک بسوں کو چلانے کا خرچ ۶۰ فیصد کم ہے جس سے حکومت کو ایندھن کے اخراجات میں بڑی بچت ہو رہی ہے۔
شہری فضا میں بہتری اور ٹرانسپورٹ کی توسیع
خواتین مسافروں کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے اور ہنگامی الرٹ بٹن فراہم کیے گئے ہیں جس سے سفر محفوظ ترین بن گیا ہے۔
اسمارٹ کارڈ اور کیمروں کی بدولت خواتین اور مسافروں کا سفر محفوظ بن گیا ہے۔
حکومت اگلے مرحلے میں ملیر اور کورنگی کے صنعتی علاقوں کے لیے مزید ۲۰۰ الیکٹرک بسیں خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
کراچی میں الیکٹرک بسوں کا یہ اقدام پاکستان کے بڑے شہروں کی ٹرانسپورٹ کو جدید اور پاکیزہ بنانے کے لیے ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا ہے۔