اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے دور دراز علاقوں میں ۱۴۰۰ کلومیٹر طویل ہائی اسپیڈ آپٹیکل فائبر کیبل بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے جس سے پہاڑی علاقوں تک تیز ترین انٹرنیٹ پہنچ گیا ہے۔
سخت سردی اور دشوار گزار پہاڑی راستوں کے باوجود انجینئرز نے خصوصی بکتر بند کیبلز بچھائی ہیں جو لینڈ سلائیڈنگ اور موسم کی سختی کو برداشت کر سکتی ہیں۔
پہاڑی علاقوں میں فائبر کیبل کی بچھائی اور ٹاورز کا قیام
۳۵۰ سے زائد اسکولوں اور لائبریریوں کو تیز ترین انٹرنیٹ سے جوڑ دیا گیا ہے جس سے پہاڑی علاقوں کے بچے آن لائن کلاسز اور بین الاقوامی تعلیمی مواد حاصل کر رہے ہیں۔
مظفرآباد، راولاکوٹ اور گلگت کے اسپتالوں میں ٹیلی میڈیسن کے سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جہاں مریضوں کا علاج ویڈیو لنک کے ذریعے بڑے ڈاکٹر کر رہے ہیں۔
پہاڑوں کی گہرائی میں بچھائی گئی فائبر کیبلز لینڈ سلائیڈنگ سے محفوظ رہتی ہیں۔
آن لائن تعلیم، ٹیلی میڈیسن اور ڈیجیٹل سہولیات
پہاڑی وادیوں کے ہنرمند نوجوان اب گھر بیٹھے آن لائن فری لانسنگ کر رہے ہیں اور ملک کے لیے زرِ مبادلہ کما رہے ہیں۔
پہاڑی دروں پر سولر پاور پر چلنے والے ۴ جی ٹاورز لگائے گئے ہیں جس سے سیاحوں اور ریسکیو ٹیموں کو موبائل سگنلز کی سہولت میسر ہے۔
مقامی بینکوں نے آن لائن بینکنگ اور اے ٹی ایمز چالو کر دیے ہیں جس سے شہریوں کو پیسے نکلوانے کے لیے دور دراز شہروں کا سفر نہیں کرنا پڑتا۔
مقامی نوجوانوں کے لیے آن لائن روزگار اور بینکنگ
فائبر نیٹ ورک سے منسلک سنسرز لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے کی اطلاع ڈیزاسٹر مینجمنٹ کو پہلے سے بھیج دیتے ہیں۔
۳۵۰ اسکولوں اور اسپتالوں کو ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ سے جوڑ دیا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین نے اس پہاڑی فائبر منصوبے کو جنوبی ایشیا کی بہترین انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیا ہے۔
ہائی اسپیڈ فائبر کیبل کی بدولت آزاد کشمیر اور گلگت کے دور افتادہ علاقے ڈیجیٹل دنیا سے جڑ کر معاشی طور پر مضبوط ہو رہے ہیں۔