ڈریگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان نے کراچی میں قائم ادویات کی جدید ترین بائیو ٹیکنالوجی فیکٹری کو عالمی ادارہ صحت (WHO) سے منظوری ملنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیکٹری جراثیم سے پاک بین الاقوامی معیار کے مطابق بچوں کی ویکسین اور انسولین تیار کر رہی ہے۔
اس سے پہلے بیرونِ ملک سے مہنگی ادویات اور ویکسین منگوانی پڑتی تھیں جس سے ملکی بجٹ پر بوجھ پڑتا تھا۔ اب مقامی سطح پر ویکسین بننے سے ادویات کی عدم دستیابی کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔
بائیو مینوفیکچرنگ لیبز اور جراثیم سے پاک ماحول
رو بوٹک مشینوں کے ذریعے جراثیم سے پاک شیشیائیوں میں روزانہ ۱ لاکھ سے زائد ویکسین کی خوراکیں خودکار طریقے سے بھر کر پیک کی جاتی ہیں۔
کوالٹی کنٹرول کی لیبارٹریز میں جدید ترین آلات کے ذریعے ادویات کے کیمیائی معیار اور خالص ہونے کا ہر بیچ میں معائنہ کیا جاتا ہے۔
رو بوٹک مشینیں جراثیم سے پاک ماحول میں روزانہ ۱ لاکھ ویکسین شیشیوں میں بھرتی ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کی منظوری اور معیاری دواسازی
مقامی میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ مل کر کینسر اور شوگر کی سستی ادویات بنانے کی تحقیق جاری ہے۔
حکومتی اسپتالوں کو آدھی قیمت پر ویکسین کی فراہمی کا معاہدہ کیا گیا ہے جس سے عوام کو مفت اور سستا علاج میسر آ رہا ہے۔
فیکٹری میں ۴۰۰ سے زائد ماہر بائیو کیمسٹس اور فارماسسٹس کو اچھے معاوضے پر روزگار ملا ہے۔
ارزاں ویکسین اور ادویات کی بین الاقوامی ایکسپورٹ
وسطی ایشیا، افریقہ اور مشرقِ وسطی کے ممالک کو بھی یہ سستی ویکسین برآمد کرنے کی منظوری حاصل کر لی گئی ہے۔
مقامی پیداوار سے ویکسین کی قیمت ۵۰ فیصد کم ہو گئی اور برآمدات شروع ہو گئیں۔
عالمی ماہرینِ صحت نے پاکستان کی دواسازی کی اس پیشرفت کو خطے میں صحت کے تحفظ کے لیے بہترین پیشرفت قرار دیا ہے۔
کراچی کی اس فارماسیوٹیکل لیب کی کامیابی سے پاکستان ادویات کی پیداوار میں خود کفالت کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔