محکمہ آبپاشی بلوچستان نے کوئٹہ، پشین اور مستونگ کی وادیوں میں ۸۵ چھوٹے پتھریلے چیک ڈیمز اور پانی ریچارج کرنے کے حوض تعمیر کر لیے ہیں۔ ان کا مقصد پہاڑوں سے آنے والے بارش کے پانی کو روک کر زیرِ زمین پہنچانا ہے۔
اس سے قبل بے تحاشا ٹیوب ویل چلانے سے بلوچستان میں زیرِ زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی تھی جس سے سیب اور انار کے قديم باغات سوکھ رہے تھے۔
چیک ڈیموں کی انجینئرنگ اور زیرِ زمین پانی ریچارج کا طریقہ
نئے چیک ڈیم بارش کے تیز بہاؤ کو روک کر ۷۰ فیصد پانی کو مٹی کے اندر جذب کر دیتے ہیں جس سے پانی ضائع یا بھاپ بن کر اڑنے سے بچ جاتا ہے۔
محکمہ پانی کے آلات سے معلوم ہوا ہے کہ چھ ماہ کے اندر زیرِ زمین پانی کی سطح میں ۴ میٹر کا تاریخی اضافہ ہوا ہے جس سے کنوؤں میں پانی واپس آ گیا ہے۔
ڈیموں کے حوض سے ۷۰ فیصد پانی مٹی کے اندر جذب ہو کر پانی کی سطح بڑھاتا ہے۔
باغات کی بحالی اور زرعی پانی کی دستیابی
پشین کے کسانوں نے بتایا کہ سوکھتے ہوئے سیب، بادام اور چیری کے باغات دوبارہ سرسبز ہو گئے ہیں جس سے ہزاروں خاندانوں کا روزگار بچ گیا ہے۔
ڈیموں کی تعمیر میں مقامی پتھر استعمال کیے گئے ہیں اور ۱۲۰۰ سے زائد مقامی افراد کو مزدور کے طور پر روزگار ملا ہے۔
دیہات کے بزرگوں پر مشتمل پانی کی کمیٹیاں ڈیموں کی دیکھ بھال اور غیر قانونی ٹیوب ویل لگانے کی روک تھام کر رہی ہیں۔
مقامی کمیونٹی کی نگرانی اور ڈیموں کے فوائد
ڈیموں کے پیچھے بننے والے تالابوں سے مویشیوں اور پرندوں کو پینے کا صاف پانی میسر آ رہا ہے۔
پانی کی سطح میں ۴ میٹر اضافے سے کوئٹہ کے سوکھتے ہوئے باغات دوبارہ سرسبز ہو گئے۔
ماحولیاتی ماہرین نے بلوچستان کی تمام بنجر وادیوں میں اسی طرز کے چھوٹے ڈیمز بنانے کی سفارش کی ہے تاکہ خشک سالی کا مقابلہ کیا جا سکے۔
چیک ڈیموں کے اس پروجیکٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ مقامی حکمتِ عملی سے قدرتی وسائل کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔