فیصل آباد کے بڑے ٹیکسٹائل ملز مالکان نے اپنے کارخانوں میں پانی صاف کرنے کے جدید ریورس اسموسس پلانٹس لگا لیے ہیں جس سے گندا پانی نہروں میں جانے کے بجائے دوبارہ استعمال ہو رہا ہے۔
اس سے پہلے کپڑے کی رنگائی کے لیے روزانہ لاکھوں گیلن تازہ پانی استعمال ہوتا تھا جو نہروں کو آلودہ کرتا تھا۔ اب ۸۵ فیصد پانی ری سائیکل کر کے دوبارہ ملز میں استعمال کیا جا رہا ہے۔
واٹر ری سائیکلنگ سسٹم اور رنگائی کی جدید ٹیکنالوجی
جدید ٹیکنالوجی کی بدولت رنگائی کے کیمیکلز میں ۳۵ فیصد کمی آئی ہے اور نامیاتی رنگوں کے استعمال سے مزدوروں کی صحت بھی محفوظ ہو گئی ہے۔
جرمنی، سویڈن اور امریکہ کے بین الاقوامی کپڑوں کے برانڈز نے فیصل آباد کے ان کارخانوں کو گرین سرٹیفکیٹ ملنے پر نئے ایکسپورٹ آرڈرز دے دیے ہیں۔
ریورس اسموسس فلٹرز کی بدولت ۸۵ فیصد صنعتی پانی دوبارہ استعمال ہو رہا ہے۔
بین الاقوامی ماحولیاتی سرٹیفکیٹ اور عالمی گاہک
ملز کی چھتوں پر سولر پینلز لگائے گئے ہیں جو دن کے وقت کارخانوں کی ۴۰ فیصد بجلی کی ضرورت پوری کر رہے ہیں جس سے ایندھن کا خرچ کم ہوا ہے۔
کارخانوں کے عملے کو کیمیکلز کے محفوظ استعمال اور ماحولیاتی قوانین کی پاسداری کی خصوصی تربیت دی گئی ہے۔
محکمہ ماحوليات نے تصدیق کی ہے کہ صنعتی نالوں کے پاس واقع زرعی نہروں کے پانی کی کوالٹی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
پانی کی بچت اور نہروں کی آلودگی میں کمی
ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن چھوٹے کارخانوں کی مدد کے لیے مرکزی ٹیسٹنگ لیب قائم کر رہی ہے تاکہ سب کو گرین سرٹیفکیٹ مل سکے۔
نامیاتی رنگوں اور اٹومیٹک مکسنگ سے مزدوروں کی صحت اور نہریں محفوظ ہو گئی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق گرین ٹیکنالوجی کو اپنانا پاکستان کے ڈینم اور ہوم ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑھانے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کا یہ ماحولیاتی اقدام ملک کے دیگر صنعتی شہروں کے لیے ایک روشن مثال بن کر سامنے آیا ہے۔