پاکستان ریلویز نے کراچی بندرگاہ کو ملتان، لاہور اور راولپنڈی کے لاجسٹکس مراکز سے جوڑنے والی مین لائن ون (ML-1) پروجیکٹ کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سے قبل پرانے ٹریک کی وجہ سے مال گاڑیاں صرف ۶۵ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی تھیں جس سے سامان پہنچنے میں تاخیر ہوتی تھی۔ اب نیا ٹریک ۱۲۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار برداشت کر سکتا ہے۔
بھاری پٹڑیوں کی جدید کاری اور سگنل سسٹم
کراچی سے لاہور سامان پہنچانے کا وقت ۴۸ گھنٹوں سے کم ہو کر صرف ۲۴ گھنٹے رہ گیا ہے جس سے تاجروں اور صنعتکاروں کو بڑا فائدہ ہوا ہے۔
۹۰ مصروف ترین پھاٹکوں پر خودکار دروازے اور سنسرز لگائے گئے ہیں تاکہ حادثات کا خدشہ ختم ہو جائے اور ٹرینیں بلا تاخیر گزر سکیں۔
کراچی سے لاہور سامان پہنچانے کا وقت ۴۸ گھنٹوں سے کم ہو کر ۲۴ گھنٹے رہ گیا۔
بندرگاہ سے اندرونِ ملک سامان کی ترسیل کے وقت میں بچت
نئے ڈیزل الیکٹرک انجنوں سے ایندھن کی کھپت میں ۲۲ فیصد کمی آئی ہے جس سے ماحولیاتی آلودگی کم ہوئی ہے۔
ٹرکوں کے مقابلے میں ریلوے سے سامان بھیجنا سستا ثابت ہو رہا ہے جس سے بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کا بوجھ کم ہوا ہے۔
کراچی اور لاہور کے کنٹرول رومز سے سیٹلائٹ جی پی ایس کے ذریعے ہر مال گاڑی کی لوکیشن پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
حفاظتی نظام اور لاجسٹکس کے معاشی فوائد
صنعتی علاقوں کو براہِ راست ریلوے لائن سے جوڑنے کے لیے ذیلی پٹڑیاں بھی بچھائی جا رہی ہیں۔
۹۰ چوراہوں پر خودکار پھاٹکوں اور سگنلز سے حادثات کا خدشہ ختم ہو گیا۔
معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مضبوط ریلوے نظام ملک کی تجارتی ترقی اور برآمدات بڑھانے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔
ایم ایل ون کی یہ جدید کاری پاکستان کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے ایک تاریخی پیشرفت ثابت ہو رہی ہے۔