نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی نے لاہور اور راولپنڈی کے مضافات میں ۱۲۰۰ کم لاگت اور ماحول دوست مکانات محنت کش خاندانوں کے حوالے کر دیے ہیں۔ ان مکانات کی تعمیر میں جدید مٹی کی دبائی ہوئی اینٹوں کا استعمال کیا گیا ہے جو گرمی کو اندر آنے سے روکتی ہیں۔
روایتی اینٹوں کے مقابلے میں ان جدید اینٹوں سے گھر کے اندر کا درجہ حرارت ۵ ڈگری کم رہتا ہے جس سے شدید گرمی میں بجلی کے ائیر کنڈیشنر کی ضرورت کم پڑتی ہے۔
ماحول دوست اینٹوں کی ٹیکنالوجی اور عمارت کی ساخت
چھتوں پر لگے سولر پینلز سے گھروں کی لائٹس اور پنکھے چلتے ہیں جس سے غریب خاندانوں کے بجلی کے ماہانہ بل انتہائی کم آتے ہیں۔
بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے چھتوں پر پائپ لگائے گئے ہیں جو پانی کو زیرِ زمین ٹینکس میں جمع کرتے ہیں اور یہ پانی باغبانی کے کام آتا ہے۔
مٹی کی اینٹوں کی بدولت گھر کے اندر کا درجہ حرارت شدید گرمی میں ۵ ڈگری کم رہتا ہے۔
سولر بجلی اور بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی
بینکوں کے تعاون سے آسان ماہانہ اقساط پر ۳۰ سال کے لیے قرضے فراہم کیے گئے ہیں جن کی قسط عام کرائے کے برابر ہے جس سے غریب لوگ اپنے گھر کے مالک بن رہے ہیں۔
کالونی کے اندر اسکول، ہیلتھ کلینک اور بچوں کے کھیل کے پارک بھی بنائے گئے ہیں۔
مکانات کی رجسٹری میاں اور بیوی دونوں کے مشترکہ نام پر کی گئی ہے جس سے خواتین کا معاشی تحفظ یقینی ہوا ہے۔
آسان اقساط پر قرضے اور خاندانی ملکیت کے فائدے
انجینئرز کے مطابق اس جدید ٹیکنالوجی سے مکان کی تعمیراتی لاگت میں ۲۰ فیصد کی بچت ہوئی ہے۔
چھتوں پر لگے سولر پینلز سے غریب خاندانوں کے بجلی کے ماہانہ بل میں بڑی بچت ہو رہی ہے۔
شہری منصوبہ بندی کے ماہرین نے اس ماڈل کو پاکستان کے شہروں میں سستے مکانات کی کمی دور کرنے کے لیے بہترین قرار دیا ہے۔
اس سستے ہاؤسنگ منصوبے نے ہزاروں محنت کش خاندانوں کو ان کی اپنی چھت فراہم کر کے ان کی زندگی بدل دی ہے۔