جنوبی پنجاب کے اضلاع وہاڑی، بہاولپور اور لودھراں میں مائیکرو فنانس اداروں کے تعاون سے ۵ ہزار سے زائد دیہی خواتین کو مویشی پالنے کے لیے آسان قرضے اور سولر ملک چلنگ سینٹرز فراہم کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل شدید گرمی میں دودھ خراب ہونے کے ڈر سے خواتین کسانوں کو دودھ سستے داموں مڈل مین کو بیچنا پڑتا تھا۔ اب گاؤں کے اندر سولر ملک چلنگ ٹینک لگنے سے دودھ کئی گھنٹے تازہ رہتا ہے اور پورا ریٹ ملتا ہے۔
ڈیجیٹل مائیکرو فنانس اور مویشیوں کی انشورنس
خواتین کے موبائل والٹ میں براہِ راست قرضے بھیجے گئے ہیں جن سے انہوں نے اعلیٰ نسل کی گائے اور بھینسیں خریدی ہیں۔
ہر قرضے کے ساتھ مویشیوں کی بیمہ پالیسی شامل کی گئی ہے تاکہ بیماری کی صورت میں کسان کا معاشی نقصان نہ ہو۔
خواتین کسانوں کی ماہانہ آمدنی میں ۹۰ فیصد کا خوشگوار اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سولر دودھ ٹھنڈا کرنے والے سینٹرز اور سپلائی چین
اس پروجیکٹ میں شامل خواتین کی ماہانہ آمدنی میں ۹۰ فیصد کا اضافہ ہوا ہے جس سے وہ بچوں کو اچھے اسکولوں میں پڑھا رہی ہیں۔
محکمہ لائیو اسٹاک کے وٹنری ڈاکٹرز باقاعدگی سے دیہاتوں کا دورہ کر کے جانوروں کو بیماریاں سے بچاؤ کے ٹیکے لگا رہے ہیں۔
خواتین کی کمیٹی روزانہ دودھ کی فیٹ چیک کر کے کمپیوٹرائزڈ نظام کے تحت موقع پر پیسے ادا کرتی ہے۔
خواتین کی معاشی خود مختاری اور دیہی ترقی
بڑے ڈیری برانڈز نے ان خواتین کوآپریٹیوز کے ساتھ دودھ کی خریداری کے معاہدے کر لیے ہیں جس سے پائیدار آمدنی یقینی ہو گئی ہے۔
سولر ملک چلنگ پلانٹ کی بدولت دودھ تازہ رہتا ہے اور پورا ریٹ ملتا ہے۔
معاشی ماہرین نے اس منصوبے کو دیہی خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔
جنوبی پنجاب میں خواتین کے ڈیری کوآپریٹیوز نے دیہی معیشت کو نئی زندگی بخشی ہے اور خاندانوں کو خوشحال بنایا ہے۔