پاکستان کے متبادل توانائی بورڈ نے سندھ کے ساحلی علاقے گھارو جھمپیر میں ۴ نئے کمرشل ونڈ فارمز کے افتتاح کا اعلان کیا ہے۔ ان جدید ونڈ ٹربائنز سے قومی گرڈ میں ۳۵۰ میگاواٹ کی پاک بجلی شامل ہو گئی ہے۔
سندھ کی ساحلی پٹی پر سال کے ۹ مہینے تیز ہوائیں چلتی ہیں جن سے ونڈ ٹربائنز چوبیس گھنٹے بجلی بناتی ہیں۔ نئے سسٹم کی بدولت کم ہوا کے موسم میں بھی بجلی کی پیداوار جاری رہتی ہے۔
ونڈ ٹربائن ٹیکنالوجی اور گرڈ اسٹیشن کا قیام
ونڈ فارمز سے بننے والی بجلی ۲۲۰ کلوواٹ کے نئے گرڈ اسٹیشنز کے ذریعے کراچی، حیدرآباد اور ٹھٹہ کی صنعتوں کو بھیجی جا رہی ہے۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اس پروجیکٹ سے سالانہ ۶ لاکھ ۵۰ ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی آئے گی اور مہنگے تیل کی بچت ہو گی۔
۴.۵ میگاواٹ کی یہ جدید ٹربائنز سال کے ۹ مہینے تیز ہوا سے بجلی بناتی ہیں۔
قومی گرڈ کو بجلی کی فراہمی اور آلودگی میں کمی
ٹربائنز کی تنصیب اور گرڈ کی تیاری کے دوران ۸۰۰ سے زائد مقامی انجینئرز اور ٹیکنیشنز کو روزگار ملا ہے۔
کمپیوٹرائزڈ اسکاڈا سسٹم کے ذریعے ہوا کی رفتار اور بجلی کی وولٹیج پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جاتی ہے۔
بین الاقوامی کمپنیوں نے اس منصوبے میں ۴۲۰ ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جس سے پاکستان کے متبادل توانائی سیکٹر پر اعتماد ثابت ہوتا ہے۔
مقامی افراد کو روزگار اور غیر ملکی سرمایہ کاری
بحیرہ عرب کے ساحل پر سمندری ونڈ فارمز (Offshore Wind) لگانے کے لیے بھی سروے جاری ہے۔
۲۲۰ کلوواٹ کے نئے گرڈ اسٹیشنز سے کراچی کی صنعتوں کو بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔
قومی گرڈ حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہوا سے بننے والی بجلی سے گرمیوں میں کراچی کے گرڈ پر دباؤ کم ہوا ہے۔
گھارو جھمپیر ونڈ کوریڈور کی یہ توسیع پاکستان کو سستی اور پاک توانائی کی طرف لے جانے میں کلیدی سنگِ میل ہے۔