محکمہ سیاحت گلگت بلتستان نے ہنزہ، اسکردو اور فیری میڈوز میں ماحول دوست سیاحت کا جدید فریم ورک لاگو کیا ہے۔ اس کا مقصد قراقرم کے نازک ماحولیاتی نظام کی حفاظت کرتے ہوئے مقامی لوگوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
گزشتہ سالوں میں سیاحوں کی آمد سے گلیشیئرز کے قریب کچرا پھیلنے کا خدشہ تھا۔ اب نئے قوانین کے تحت ہر سیاح کو اپنا کچرا واپس لانا لازمی قرار دیا گیا ہے جس کی نگرانی پارک رینجرز کر رہے ہیں۔
پہاڑی راستوں کے قوانین اور ماحول دوست لاجز
۱۵۰ سے زائد مقامی افراد کو سولر واٹر ہیٹنگ اور صفائی کے اصولوں پر مبنی ماحول دوست لاجز چلانے کی تربیت دی گئی ہے۔
پہاڑی راستوں پر ایمرجنسی کی صورت میں مدد کے لیے سولر پاور سے چلنے والی سیٹلائٹ شیلٹرز قائم کی گئی ہیں تاکہ کوہ پیماؤں کی حفاظت یقینی ہو سکے۔
۱۵۰ سے زائد مقامی افراد کو سولر واٹر ہیٹر اور ماحول دوست لاجز چلانے کی تربیت دی گئی۔
کچرے کی صفائی کا نظام اور نایاب جنگلی حیات کا تحفظ
سیاحوں کے ٹکٹوں کی آمدنی کا ایک حصہ براہِ راست مقامی دیہات کی ترقیاتی کمیٹیوں کو دیا جا رہا ہے جس سے اسکول اور پینے کے پانی کے منصوبے بن رہے ہیں۔
تحفظ شدہ علاقوں میں شکار پر پابندی کی وجہ سے برفانی چیٹوں اور مارخور کی تعداد میں خوشگوار اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
آن لائن پورٹل کے ذریعے غیر ملکی سیاح اب مقامی گائیڈز اور ہوم اسٹیز کی ڈائریکٹ بکنگ کر سکتے ہیں جس سے پورٹرز اور گائیڈز کو پورا معاوضہ مل رہا ہے۔
سیاحت کی آمدنی میں مقامی لوگوں کا حصہ
پہاڑی راستوں پر پلاسٹک کی بوتلوں پر پابندی عائد کر کے پانی صاف کرنے کے پوائنٹس بنا دیے گئے ہیں۔
آن لائن پورٹل کے ذریعے غیر ملکی سیاح اب مقامی گائیڈز کی ڈائریکٹ بکنگ کر سکتے ہیں۔
یورپ اور ایشیا کی کوہ پیمائی تنظیموں نے گلگت بلتستان کے اس ماحول دوست سیاحتی ماڈل کی تعریف کی ہے۔
اس پائیدار سیاحتی پالیسی سے پاکستان کے شمالی علاقوں کی قدرتی خوبصورتی بھی محفوظ ہو رہی ہے اور مقامی لوگوں کو باعزت روزگار بھی مل رہا ہے۔