مرکزی
انتخابی کمیٹی کے جمعے کو جاری کردہ نتائج کے مطابق نیتن یاہو کے دائیں بازو اور
انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد نے 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستیں
حاصل کیں۔ ان کی جماعت لیکوڈ 27 نشستوں کے ساتھ
پارلیمان کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ گادی آئزن کوٹ کی قیادت
میں حزبِ اختلاف کے اتحاد نے 48 نشستیں حاصل کیں۔ دوسری جانب عرب جماعتوں رعام اور
جوائنٹ لسٹ نے مجموعی طور پر 19 نشستیں جیت کر حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا
کرنے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
انتخابات
کے منقسم نتائج کے باعث حکومت بنانے کے لیے کئی ہفتوں
تک مشکل مذاکرات جاری رہنے کا امکان ہے۔کسی بھی سیاسی
اتحاد کو حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔
مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں دوبارہ انتخابات کا امکان بھی موجود ہے۔ حتمی
نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب نیتن یاہو کے حامیوں نے جمعرات کو یہ الزامات زور
و شور سے اٹھائے کہ عرب اسرائیلی جماعتوں کو انتخاب پر اثرانداز ہونے کے لیے
بیرونی ممالک سے مالی امداد ملی۔
اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت نے
انتخابی بے ضابطگیوں کے شبہے میں تحقیقات شروع کرنے کی تصدیق کی ہے، تاہم واضح کیا
کہ اس کا مقصد کسی ایسے ایک طبقے کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، جس نے جمہوری اور
قانونی طریقے سے ووٹ دیا ہو۔قائم
مقام ڈائریکٹر جنرل دین لیوین نے کہا کہ بڑے پیمانے پر انتخابی بے ضابطگیوں کے
دعوے ’’مکمل طور پر بے بنیاد‘‘ ہیں۔
اس تنازعے کا مرکز یہ الزام ہے کہ عرب جماعت رعام کو قطر سے رقم ملی،
جسے مبینہ طور پر ووٹ خریدنے کی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ نیتن یاہو کی
جماعت لیکوڈ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا، ’’رعام گیٹ اسکینڈل ایک سیاسی زلزلہ ہے۔ اسرائیل کے انتخابات چوری کر لیے
گئے ہیں۔‘‘
رعام کے سربراہ منصور عباس نے کسی بھی غلط کام کی
تردید کرتے ہوئے تحقیقات کا خیرمقدم کیا۔ دوسری جانب جوائنٹ لسٹ نے نیتن یاہو اور
ان کے اتحادیوں پر الزام عائد کیا کہ وہ عرب ووٹروں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثرورسوخ
سے خوف زدہ ہو کر ’’اشتعال انگیز مہم‘‘ چلا رہے ہیں۔ حزبِ اختلاف کے
رہنماؤں نے نیتن یاہو پر الزام لگایا کہ وہ حکومت سازی کے لیے اکثریت حاصل نہ کر
پانے کے بعد انتخابی نتائج پر عوام کا اعتماد متزلزل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو خود بھی قطر سے متعلق الزامات کی زد میں رہے ہیں۔ گزشتہ برس
ان کے دو معاونین کو مبینہ طور پر قطر سے ادائیگیاں وصول کرنے کے الزام میں گرفتار
کیا گیا تھا۔ جوائنٹ لسٹ کے سربراہ یوسف جبارین نے خبر رساں
ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ نیتن یاہو کی حکومت ختم کرنے کے لیے حزبِ اختلاف
کے ساتھ تعاون پر آمادہ ہیں، تاہم ان کی جماعت کسی نئی حکومت میں شامل نہیں ہو گی۔
انتخابی عمل کے دوران بھی نیتن یاہو نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان کا
کہنا تھا کہ عرب جماعتوں کو نقد رقم کے لفافوں کے ساتھ پکڑا گیا ہے۔ لیکوڈ نے
جمعرات کو بھی ان الزامات کو دہرایا۔