دنیا کے بڑے
مائع قدرتی گیس (ایل این جی) برآمد کنندگان میں شامل قطر نے امریکہ سے قدرتی گیس
خریدنے کے لیے 20 سالہ معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ معاہدے کے تحت قطر کی سرکاری
توانائی کمپنی قطر انرجی ہر سال امریکہ کی ریاست لوئیزیانا میں قائم ایک گیس کمپنی
سے 30 لاکھ ٹن قدرتی گیس خریدے گی، جبکہ ایل این جی کی ترسیل 2030 سے شروع ہوگی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ
اور آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت محدود ہونے کے بعد قطر کی گیس کی پیداوار
متاثر ہوئی ہے۔ قطر عالمی منڈی میں ایل این جی فراہم کرنے والے اہم ممالک میں شمار
ہوتا ہے، تاہم خطے میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورت حال نے توانائی کی ترسیل
اور پیداوار کے حوالے سے خدشات پیدا کیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ سے 20
سالہ مدت کے لیے گیس کی خریداری کا معاہدہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قطر
آبنائے ہرمز کے بحران کے جلد خاتمے کے بارے میں غیر یقینی صورت حال کو مدنظر رکھتے
ہوئے طویل مدتی توانائی انتظامات کر رہا ہے۔ تاہم معاہدے کی مدت بذات خود اس بات
کا حتمی ثبوت نہیں کہ قطر کے نزدیک بحران مستقبل قریب میں ختم نہیں ہوگا۔
معاہدے کے تحت امریکہ سے خریدی جانے والی ایل این جی قطر کی توانائی ضروریات اور
رسد کے انتظام میں کردار ادا کرے گی۔ اس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ قطر خود
دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، جبکہ اب وہ طویل مدتی بنیادوں
پر امریکہ سے گیس خریدنے کا انتظام کر رہا ہے۔
دوسری جانب پاکستان کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں
کمی نہ آ سکی اور صارفین کو مہنگائی کا دباؤ جاری ہے۔ لاہور میں فی کلو ایل پی جی
کی قیمت 750 روپے ہو گئی، جبکہ کراچی میں 600 روپے فی کلو میں ایل پی جی کی فروخت
جاری ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی ایل پی جی 600 روپے فی کلو میں فروخت ہو
رہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ میں 600 اور پشاور میں 570 روپے فی کلو ایل پی جی کی
فروخت جاری ہے۔ دوسری جانب ایل پی جی مارکیٹرز ایسوسی ایشن کے سینئر نائب چیئرمین
علی حیدر نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہازوں کی آمد کے علاوہ ایران
بارڈر سے بھی سپلائی بحال ہوئی ہے، لیکن اس وقت گاڑیوں کی قلت درپیش ہے۔ علی حیدر
نے خیال ظاہر کیا تھا کہ سپلائی چین معمول پر آنے سے آئندہ 48 گھنٹوں میں کراچی
میں ایل پی جی کا عمومی بھاؤ 480 روپے ہو جانے کی امید ہے۔