جنوبی کوریا میں ایک اسپیشل کونسل کی ٹیم نے مارشل لا نافذ کرنے کی
ناکام کوشش اور بغاوت کے الزامات میں سزا یافتہ سابق صدر یون سک یول Yoon Suk Yeol کی
اپیل پر سماعت کے دوران ایک بار پھر ان کے لیے سزائے موت کی استدعا کی ہے۔ مقامی
میڈیا رپورٹس کے مطابق، جنوبی کوریا میں جمعرات کے روز ایک اسپیشل کونسل ٹیم نے
اپیل کی سماعت کے دوران سابق صدر یون سک یول Yoon
Suk Yeol کے لیے بغاوت کے الزامات
کے تحت ایک بار پھر سزائے موت کی درخواست کر دی ہے۔ یہ مقدمہ ان کی جانب سے ملک
میں مارشل لاء نافذ کرنے کی ناکام کوشش سے متعلق ہے۔
خبر رساں ادارے یونہاپ کی رپورٹ کے مطابق، اسپیشل کونسل چو ایون سُک Cho Eun-suk کی
سربراہی میں کام کرنے والی ٹیم نے سیؤل ہائیکورٹ میں اس سزا کی استدعا کی، جہاں
سابق صدر یون Yoon Suk Yeol اپنی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کا سامنا کر رہے ہیں۔ واضح
رہے کہ سابق صدر یون سک یول Yoon Suk Yeol کو رواں سال فروری میں دسمبر 2024 کے دوران مارشل لاء کے ناکام نفاذ کے
ذریعے بغاوت کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان کی یہ کوشش قومی
اسمبلی کی فوری مداخلت اور مخالفت کے باعث چند گھنٹوں میں ہی ناکام بنا دی گئی
تھی۔ اس سے قبل پبلک پراسیکیوٹرز نے بھی رواں سال جنوری میں ان کے لیے پہلی بار
سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا۔
سابق صدر یون Yoon Suk Yeol کو فی الوقت اپنے مارشل لاء کے اقدام، اپنی اہلیہ پر عائد بدعنوانی کے
الزامات اور 2023 میں ایک میرین افسر کی ہلاکت کی تحقیقات سمیت مجموعی طور پر 8
مختلف مقدمات کا سامنا ہے۔ 3 دسمبر 2024 کو مارشل لا کے نفاذ
کے اعلان پر آئینی عدالت نے اپریل 2025 میں متفقہ طور پر ان کے خلاف مواخذے کی
توثیق کرتے ہوئے انہیں باضابطہ طور پر صدارتی عہدے سے برطرف کر دیا تھا، جس کے بعد
ملک میں قبل از وقت صدارتی انتخابات کا انعقاد کیا گیا۔
فروری میں سیؤل کی نچلی عدالت کی جانب سے بغاوت کا ماسٹر مائنڈ قرار
دیے جانے اور عمر قید کی سزا سنائے جانے کے اگلے ہی دن یون Yoon Suk Yeol نے اپنے وکلاء کے توسط سے
جاری کردہ ایک بیان میں مارشل لا کے مختصر نفاذ پر معافی مانگ لی تھی۔ اپنے بیان
میں ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہیں اپنے اس فیصلے سے عوام کو پہنچنے والی ’پریشانی
اور مشکلات‘ پر افسوس ہے، لیکن وہ اپنے اقدام کے پیچھے موجود ’خلوص اور مقصدیت‘ پر
قائم ہیں۔