آسٹریا میں طویل عرصے
سے قانونی طور پر مقیم غیر ملکی تارکینِ وطن کے بچوں کو پیدائش کے ساتھ ہی خودکار
شہریت دینے کے لیے انسانی حقوق کے اداروں اور فلاحی تنظیموں نے ایک ملک گیر مہم کا
آغاز کیا ہے جس نے آسٹرین سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ انسانی حقوق کی معروف
تنظیم "ایس او ایس متمنش"
(SOS Mitmensch) نے
ڈائیکونی، کاریتاس اور ووکس ہلفے جیسی بڑی فلاحی تنظیموں اور طاقتور مزدور یونین
چیمبر آف لیبر
(AK) کے تعاون سے "یہیں
پیدا ہوئے"
(Hier geboren) کے
عنوان سے ایک بھرپور تحریک شروع کی ہے۔ مہم چلانے والوں کا بنیادی مؤقف ہے کہ جو
بچے آسٹریا کی سرزمین پر آنکھ کھولتے ہیں، یہیں اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں
اور جرمن زبان بولتے ہوئے پروان چڑھتے ہیں، انہیں پیدائش کے وقت ہی برابری کی
بنیاد پر آسٹرین شہری تسلیم کیا جانا چاہیے۔ اس مہم میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ
آسٹریا میں بھی جرمنی کی طرز پر پیدائشی حقِ شہریت کا اصول لاگو کیا جائے تاکہ اگر
والدین میں سے کوئی ایک بھی گزشتہ پانچ سال سے قانونی طور پر ملک میں مقیم ہو تو
اس کے بچے کو پیدائش کے فوراً بعد خودکار طریقے سے شہریت مل سکے۔
اس مہم کی ضرورت اس لیے
پیش آئی کہ آسٹریا کا موجودہ شہریت کا قانون پورے یورپی یونین میں سخت ترین قوانین
میں شمار ہوتا ہے۔ آسٹریا صدیوں پرانے "خون کے رشتے" یعنی جس سانگوئنس (Jus Sanguinis) کے اصول پر سختی سے کاربند ہے، جس کے تحت ملک
میں پیدا ہونا شہریت کی کوئی ضمانت نہیں دیتا بلکہ بچہ صرف اسی صورت میں شہری بن
سکتا ہے اگر اس کے والدین میں سے کم از کم ایک کے پاس پہلے سے آسٹریا کا پاسپورٹ
موجود ہو۔ جو تارکینِ وطن باقاعدہ طریقہ کار کے ذریعے شہریت حاصل کرنا چاہتے ہیں،
انہیں دس سے پندرہ سال کے صبر آزما انتظار، پولیس ریکارڈ کی سخت جانچ پڑتال، بھاری
بھرکم فیسوں اور انتہائی بلند ماہانہ آمدنی کے ثبوت فراہم کرنا پڑتے ہیں۔ مزید
برآں، آسٹریا عمومی طور پر دوہری شہریت کی اجازت بھی نہیں دیتا، جس کے باعث
دہائیوں سے قانونی ٹیکس ادا کرنے والے غیر ملکی بھی اپنے ہی بچوں کو پیدائشی شہری
بنانے سے قاصر رہتے ہیں۔
اعداد و شمار اس بحران
کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، خاص طور پر دارالحکومت ویانا میں جہاں پیدا ہونے والے
ہر پانچ میں سے ایک سے زائد بچے پیدائشی طور پر غیر ملکی کہلاتے ہیں حالانکہ ان کا
اپنے آبائی ملک سے محض کاغذی تعلق ہوتا ہے۔ اس صورتحال نے ملک میں ایک سنگین
"جمہوری خسارے" کو جنم دیا ہے کیونکہ ویانا کی تقریباً تیس فیصد سے زائد
بالغ آبادی شہریت نہ ہونے کی وجہ سے عام انتخابات میں ووٹ کے بنیادی حق سے محروم
ہے۔ عوامی شعور اجاگر کرنے کے لیے مہم کے کارکنان ہر انتخابی عمل کے دوران علامتی
انتخابات یعنی "پاس ایگال واہل"
(Pass Egal Wahl) کا
انعقاد کرتے ہیں، جہاں لاکھوں غیر ملکی علامتی ووٹ ڈال کر حکمرانوں کو یہ باور
کراتے ہیں کہ معاشرے کے اتنے بڑے حصے کو ملکی فیصلوں سے الگ رکھنا جمہوری اقدار کے
منافی ہے۔
سیاسی میدان میں اس مہم نے رائے عامہ کو دو واضح
دھڑوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (SPÖ) اور گرین پارٹی شہریت کے نظام میں اصلاحات اور طویل المدت مقیم غیر
ملکیوں کے بچوں کے لیے پیدائشی حقِ شہریت کی حمایت کر رہی ہیں تاکہ معاشرتی ہم
آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے برعکس، حکمران قدامت پسند پیپلز پارٹی (ÖVP) اور دائیں بازو کی قوم پرست فریڈم پارٹی (FPÖ) اس تبدیلی کی سخت مخالف ہیں۔ ان جماعتوں کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ
آسٹریا کا پاسپورٹ کوئی تحفہ یا خیرات نہیں بلکہ یہ معاشرے میں مکمل طور پر ضم
ہونے اور وفاداری ثابت کرنے کا آخری انعام ہے، اس لیے شرائط میں کسی قسم کی نرمی
ملکی مفاد میں نہیں۔ یہ کشمکش اس وقت آسٹریا کے مستقبل، ملکی شناخت اور لاکھوں
تارکینِ وطن کے بنیادی حقوق کی سب سے بڑی جنگ بن چکی ہے۔