قومی اسمبلی میں اپوزیشن
لیڈر، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے چیئرمین اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ
محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ موجودہ حکمران قاتل ہیں جو اپنے اقتدار کو بچانے کے
لیے پرامن جلوسوں پر سیدھی گولیاں چلاتے ہیں۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے
دنیا کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فرانس جیسے ممالک میں بڑے
بڑے مظاہرے ہوتے ہیں لیکن وہاں کسی پر گولی نہیں چلائی جاتی۔
پاکستان میں تحریک
انصاف اور تحریک لبیک پاکستان یعنی ٹی ایل پی کے کارکنوں سمیت 120 سے زائد
کشمیریوں کو مظاہروں کے دوران شہید کیا گیا۔ اس ظالم حکومت اور نظام کے خلاف
خاموش رہنا اور آواز نہ اٹھانا اب خود ایک بہت بڑا جرم بن چکا ہے۔ ملکی انتخابات
اور عوام کے مینڈیٹ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ چار
کروڑ عوام کی رائے دہی اور ووٹ کا بھیانک مذاق اڑایا گیا، جسے فوری طور پر روکا
جانا چاہییے۔
عمران خان اچھا ہو یا برا
لیکن یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ 2024ءکا الیکشن عمران خان اور اس کی پارٹی
نے واضح طور پر جیتا تھا مگر حکمران طبقہ وہ مینڈیٹ دینے کے لیے ہرگز تیار نہیں
تھا۔ یہ لوگ پہلے دن سے ہی اس کوشش میں لگے ہوئے تھے اور انہوں نے لوگوں کو
ڈرا دھمکا کر قومی اسمبلی کی نشستیں کم کرکے 70 پر لا کھڑا کیا۔ عدالتوں اور دیگر
اداروں کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عدالتوں اور مقتدرہ نے
مل کر عوام کے مینڈیٹ کے خلاف ایک محاذ بنا لیا ہے۔ عدالتوں کے ذریعے ایک
سیاسی جماعت سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، جو کہ دنیا میں کہیں بھی نہیں
ہوتا، تحریک انصاف کے لوگوں کو باہر کھینچا گیا اور ان کی اقلیتوں اور خواتین کی
مخصوص نشستیں باقی پارٹیوں میں باقاعدہ مالِ غنیمت کے طور پر بانٹ دی گئیں۔
انتہائی دکھ کی بات ہے کہ
بدقسمتی سے کسی ایک پارٹی نے بھی یہ کہہ کر انکار نہیں کیا کہ یہ نشستیں ان کا حق
نہیں بنتی ہیں۔ سربراہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے خبردار کیا کہ آخری مورچہ جو
عمران خان کی پارٹی کا تھا، جس کو عوام کے چار کروڑ ووٹ ملے تھے، اب اس پر بھی
حملے کیے جا رہے ہیں۔ ججز سمیت جو بھی انسان انصاف، سیاست اور بنیادی حقوق
پر یقین رکھتا ہے، اسے دیکھنا چاہیے کہ عوام کا مینڈیٹ اور حکومتیں چھینے جانے کے
بعد انہیں احتجاج کرنے کا حق بھی نہیں دیا جا رہا۔ اگر عدالتوں نے آئین و
قانون کے مطابق منصفانہ فیصلے نہ کیے تو پھر فیصلے سڑکوں پر ہوں گے، جو کہ ملک کے
لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوں گے، تمام سیاسی قوتوں اور ذمہ داران کو ملک کو تباہی
کے کنویں سے بچانے کے لیے فوری ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔