اقوام متحدہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری عسکری کشیدگی
میں مسلسل اضافے اور یمن کی حوثی ملیشیا (انصاراللہ) کی جانب سے سعودی عرب میں شہری تنصیبات اور توانائی کے مراکز
کو نشانہ بنانے کے واقعات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنے
اور لڑائی کو روکنے پر زور دیا ہے۔ ادارے
کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے کہا ہے کہ تمام متحارب فریقین بین الاقوامی انسانی
قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں سے
گریز کریں اور ان بنیادی سہولیات کو حملوں سے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائیں
جن پر لوگوں کی زندگیوں کا انحصار ہوتا ہے۔
انہوں نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ہینز گرنڈبرگ کے ساتھ
تعمیری مذاکرات کریں تاکہ ایک ایسے جامع مکالمے کی راہ
ہموار ہو سکے جو بات چیت کے ذریعے مسئلے کے سیاسی تصفیے تک پہنچنے میں مدد دے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے
انڈونیشیا روانگی سے کچھ دیر قبل یمن کی صدارتی قیادت کونسل کے چیئرمین رشاد
العلیمی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور ملک میں جاری تنازع اور اس کے علاقائی اثرات
پر تبادلہ خیال کیا۔
مخدوش انسانی
حالات
امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ یمن کے شہر تعز کا بیرونی دنیا سے رابطہ بتدریج منقطع ہوتا جا رہا ہے۔
اگست کے آغاز سے شہر اور گردونواح میں جاری لڑائی کے باعث ڈھائی لاکھ سے زیادہ لوگ
بے گھر ہو چکے ہیں جن میں سے 82 ہزار سے زیادہ رواں ماہ اپنے گھر بار چھوڑنے پر
مجبور ہوئے۔ امدادی کارکنوں کے مطابق شہر کے
اندر صورتحال تیزی سے ابتر ہو رہی ہے۔ گزشتہ
ہفتے انسانی امداد فراہم کرنے والے شراکت دار اداروں نے خوراک کا آخری دستیاب
ذخیرہ بھی تقسیم کر دیا تھا۔ اب تمام آبادی کا انحصار مقامی منڈیوں پر ہے جہاں
اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔ پانی کی فراہمی محدود ہوتی جا رہی ہے، جبکہ
کھانا بنانے کے لیے استعمال ہونے والی گیس بھی انتہائی نایاب ہو گئی ہے۔ ہسپتالوں سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ وہاں
ادویات، آکسیجن اور ایندھن کی قلت ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ
کے امدادی اقدامات
ترجمان نے کہا ہے کہ ان دشوار حالات کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار امدادی سرگرمیوں
میں مصروف ہیں۔
- ·
اگست سے اب تک یمن بھر میں ایک لاکھ 63 ہزار سے زیادہ
لوگوں تک ہنگامی امداد پہنچائی گئی ہے۔
- ·
92 ہزار
سے زیادہ لوگوں کو نقد مالی امداد فراہم کی گئی جبکہ 88 ہزار سے زیادہ کو غذائی
امداد دی گئی۔
- ·
65 ہزار
سے زیادہ شہریوں کو صاف پانی اور صحت و صفائی کا سامان مہیا کیا گیا
ہے۔
- ·
38 ہزار
سے افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
- ·
67 ہزار
سے زیادہ بچوں، حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی ماؤں میں غذائی قلت کی جانچ کی گئی۔
بڑھتی
ضروریات، ناکافی امداد
سٹیفن ڈوجیرک نے واضح کیا کہ انسانی ضروریات کے مقابلے میں امدادی
سرگرمیوں کا دائرہ اب بھی ناکافی ہے۔ جن
خاندانوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جا چکا ہے ان میں سے 40 فیصد ہنگامی غذائی امداد
کے منتظر ہیں۔ بے گھر افراد کے گنجان آباد کیمپوں میں ہیضے کی وبا پھیلنے کا خطرہ
بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اکتوبر سے اقوام متحدہ کے امدادی شراکت دار تعز اور اس کے
جنوب میں واقع اضلاع کے درمیان سفر نہیں کر سکے۔ اس کے نتیجے میں عدن میں موجود
امدادی سامان اور الطربہ کے گوداموں میں ذخیرہ رسد ضرورت مند لوگوں تک نہیں پہنچ
پا رہی۔ اقوام متحدہ نے فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ
وہ انسانی امداد کی محفوظ، مسلسل اور بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنائیں، تاکہ
امدادی سامان ان علاقوں تک پہنچایا جا سکے جہاں اس کی اشد ضرورت ہے۔