غزہ میں
امن و امان کی بحالی اور سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے امریکا کی قیادت
میں ایک بین الاقوامی استحکامی فورس تشکیل دی جا رہی ہے جس کے تحت مراکش کے 500
اہلکاروں کو خصوصی فوجی تربیت فراہم کی گئی ہے۔ مراکش میں اگست کے اختتام سے شروع ہونے والی اس
تربیت میں پہلے مرحلے کے دوران فوجی افسران اور انسٹرکٹرز کو شامل کیا گیا جبکہ
بعد ازاں دیگر اہلکاروں کو بھی خصوصی سکیورٹی امور کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ یہ اقدام
خطے میں امن کے قیام کی کوشش ہے۔ مراکش
رواں سال فروری میں غزہ میں سکیورٹی اہلکار بھیجنے پر آمادگی ظاہر کرنے والا پہلا
عرب ملک بنا تھا۔ اس کے علاوہ البانیہ، قازقستان اور کوسوو جیسے ممالک نے بھی اس
بین الاقوامی فورس کا حصہ بننے اور اپنے فوجی دستے فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی
ہے۔ تاہم غزہ میں اس فورس کی تعیناتی کا عمل تاحال
مکمل نہیں ہو سکا ہے۔ انتظامی رکاوٹوں اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے منظوریوں میں
تاخیر کے باعث بین الاقوامی امن مشن کو عملی جامہ پہنانے میں شدید مشکلات کا سامنا
ہے جس سے پورا منصوبہ تاحال تعطل کا شکار ہے۔
دوسری جانب متحدہ عرب
امارات کی مالی معاونت سے جاری فلسطینی مہاجرین کے لیے رہائشی منصوبوں پر بھی پیش
رفت سست روی کا شکار ہے۔ اسرائیلی
وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے واضح کیا ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک غزہ
کی تعمیر نو کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکی
قیادت میں تشکیل دیے گئے غزہ امن بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ فورس کے لیے مجوزہ
مراکز کی تعمیر اور بنیادی سہولیات جیسے پانی اور صفائی کے منصوبے بھی متاثر ہوئے
ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ مستقبل میں حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایات پر
قائم کیے جانے والے اس امن بورڈ کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کی صورتحال کو کنٹرول
کرنا ہے۔ بین الاقوامی برادری کو توقع ہے کہ اسرائیلی سیاسی حالات میں تبدیلی کے
بعد ان منصوبوں پر عمل درآمد تیز ہو سکے گا۔