ترک صدر رجب طیب
اردوان نے ترکیہ کو خطے میں گھیرنے کی کوششوں سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انقرہ
ایک آزاد اور خوشحال ریاست کے طور پر اپنے راستے میں کسی رکاوٹ کو برداشت نہیں کرے
گا۔ کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں
اپنے گرد ہونے والے دشمنانہ اقدامات کو خاموشی سے نہیں دیکھے گا، ترکیہ کسی ریاست،
معاشرے، عقیدے یا ثقافت کے خلاف نہیں۔
ترک صدر نے کہا
کہ مشکل جغرافیائی صورتحال کے باوجود ترکیہ ایک آزاد اور خوشحال ریاست کی حیثیت سے
اپنا سفر جاری رکھنا چاہتا ہے اور کسی کو اسے روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسرائیل نے جھوٹ اور تخریب کاری کے ذریعے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو سبوتاژ
کرنے کی کوشش کی۔ خطے کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے اردوان نے مشرق وسطیٰ میں جاری
تنازعات اور ان کے وسیع تر اثرات کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔
رجب طیب اردوان
نے کہا کہ خطے میں بحرانوں کا طوفان اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک وہ سوچ تبدیل
نہیں ہوتی جو امن کے معمولی سے امکان کو بھی اپنے لیے خطرہ سمجھتی ہے، خطے میں پائیدار
امن کے لیے تصادم کے بجائے تعاون اور امن کی راہ اپنانا ہوگی۔