بھارت اور چین کے درمیان براہِ
راست فضائی رابطے کی بحالی کا عمل تیز ہوگیا ہے اور چائنا سدرن ایئرلائنز 21 ستمبر
سے گوانگ ژو Guangzhou اور نئی دہلی کے درمیان روزانہ براہِ راست مسافر
پروازیں شروع کرے گی۔ چینی ایئرلائن کے مطابق گوانگ ژو سے نئی دہلی کے لیے پرواز روزانہ
مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 35 منٹ پر روانہ ہوکر شام 7 بجے نئی دہلی پہنچے
گی، جبکہ نئی دہلی سے گوانگ ژو Guangzhou جانے والی پرواز رات 8 بجے روانہ ہوگی اور اگلے
روز صبح 4 بج کر 15 منٹ پر گوانگ ژو Guangzhou پہنچے گی۔ یہ فضائی سروس بوئنگ 737-8 طیاروں کے ذریعے چلائی جائے گی۔
گوانگ ژو Guangzhou – نئی دہلی فضائی رابطہ کورونا وبا کے باعث 2020 میں معطل کیا گیا تھا
اور تقریباً چھ سال بعد اس کی بحالی دونوں ملکوں کے درمیان فضائی آمدورفت کی بحالی
میں اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔
بھارت اور چین کے درمیان براہِ
راست فضائی رابطے کی بحالی پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔ ایئر انڈیا نے یکم فروری 2026
سے نئی دہلی اور شنگھائی کے درمیان ہفتے میں چار براہِ راست پروازیں شروع کی تھیں،
جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان دیگر فضائی رابطے بھی مرحلہ وار بحال کیے جارہے ہیں۔
چائنا سدرن ایئرلائنز کی جانب سے گوانگ ژو–نئی دہلی روزانہ پرواز کے آغاز سے
کاروباری مسافروں، سیاحوں، طلبہ اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی روابط رکھنے
والے افراد کے لیے سفری سہولت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان
براہِ راست پروازوں کی بحالی دونوں ملکوں کے تعلقات میں بتدریج آنے والی بہتری کے
پس منظر میں ہورہی ہے۔ 2020 کے سرحدی تنازع کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان عوامی
رابطے اور فضائی آمدورفت شدید متاثر ہوئی تھی، تاہم 2024 میں سرحدی کشیدگی کم کرنے
کے لیے ہونے والی پیش رفت کے بعد تعلقات میں محتاط بہتری دیکھی جارہی ہے۔