اسرائیل میں 2026 کے پارلیمانی
انتخابات سے قبل وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں ایک
جانب ہزاروں شہری حکومتی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں، وہیں امریکا اور
یورپ میں مقیم تقریباً 67 ہزار اسرائیلی شہری اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے
لیے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں ویب سائٹ کی رپورٹ
کے مطابق بیرون ملک مقیم ان شہریوں کی بڑی تعداد میں آمد کو انتخابی مقابلے کے
تناظر میں اہم قرار دیا جارہا ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے خواہش مند ان ووٹرز کا کہنا
ہے کہ وہ گزشتہ 20 سال سے جاری حکومتی پالیسیوں اور غزہ جنگ سے متعلق اختیار کی
گئی حکمت عملی سے مطمئن نہیں، اسی لیے وہ ملک کی قیادت میں تبدیلی اور مستقبل کے
لیے نئی سمت کے خواہاں ہیں۔
دوسری جانب انتخابات سے محض 3 روز قبل
تل ابیب میں ہزاروں افراد نے وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ غیر
ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں پر عدم اطمینان کا اظہار
کرتے ہوئے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران پیش آنے والی ناکامیوں کی
تحقیقات کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ حملے سے قبل اور اس کے
دوران سکیورٹی اور حکومتی سطح پر ہونے والی کوتاہیوں کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا
جائے تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہوسکے۔ اس معاملے نے اسرائیل میں حکومت کی کارکردگی
اور قومی سلامتی سے متعلق فیصلوں پر بحث کو مزید نمایاں کردیا ہے۔
انتخابات سے پہلے ہونے والے اس احتجاج
اور بیرون ملک مقیم اسرائیلی ووٹرز کی بڑی تعداد میں وطن واپسی کو نیتن یاہو حکومت
کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت
مخالف حلقے قیادت کی تبدیلی کے خواہاں ہیں، تاہم ان ووٹرز کی آمد اور احتجاج کا
حتمی انتخابی نتائج پر کتنا اثر پڑے گا، اس کا فیصلہ ووٹنگ کے بعد ہی ہوسکے گا۔