چہل قدمی صحت مند زندگی گزارنے،
دل کو تندرست رکھنے اور وزن کو قابو میں رکھنے کا ایک انتہائی آسان اور مفید طریقہ
ہے۔ اس کے لیے نہ تو مہنگے آلات کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی جم کی رکنیت درکار
ہوتی ہے۔ ہر عمر کے افراد اسے اپنے روزمرہ کے معمولات کا حصہ بنا سکتے ہیں۔ لیکن
اکثر لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہوتا ہے کہ وزن کم کرنے کے لیے گھر کے اندر جیسے
ٹریڈمل پر چلنا زیادہ فائدہ مند ہے یا پارک اور کھلی جگہوں پر چہل قدمی کرنا بہتر
رہتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ دونوں طریقوں کے اپنے فوائد ہیں۔ اصل فرق اس بات سے پڑتا
ہے کہ آپ کتنی دیر چلتے ہیں، کتنی تیزی سے چلتے ہیں اور اس معمول کو کتنی باقاعدگی
سے جاری رکھتے ہیں۔
وزن کم کرنے کے لیے کون سا طریقہ
بہتر ہے؟
فٹنس کے ماہرین کے مطابق، اس
سوال کا کوئی ایک سیدھا جواب نہیں ہے، بلکہ اس کا انحصار انسان کی اپنی صحت،
ضرورت، وقت اور ماحول پر ہے۔ باہر واک کرنے سے آپ تازہ ہوا اور قدرتی مناظر سے لطف
اندوز ہو سکتے ہیں، جبکہ گھر کے اندر چلتے ہوئے آپ اپنی رفتار اور ماحول کو کنٹرول
کر سکتے ہیں۔ دونوں طریقوں سے باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے کیلوریز جلانے، پٹھوں
کو مضبوط بنانے اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا
ضروری ہے کہ دونوں طریقوں کے کیا فائدے اور حدود ہیں تاکہ آپ اپنے لیے بہتر فیصلہ
کر سکیں۔
جہاں تک وزن کم کرنے اور
کیلوریز جلانے کا تعلق ہے، گھر کے اندر اور باہر دونوں طرح کی چہل قدمی مفید ثابت
ہو سکتی ہے۔ گھر کے اندر چلنے اور باہر چہل قدمی کرنے، دونوں سے جسم کی کیلوریز
خرچ ہوتی ہیں اور وزن کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، اس کا انحصار جسمانی وزن،
چلنے کی رفتار، دورانیے اور ورزش کی شدت پر ہوتا ہے۔ اگر آپ ٹریڈمل پر چلتے ہیں تو
اس کی رفتار اور ڈھلوان اپنی جسمانی صلاحیت کے مطابق بڑھا سکتے ہیں۔ اس طرح ورزش
کو بتدریج مشکل بنانا اور اپنی کارکردگی کا جائزہ لینا آسان ہوتا ہے۔
دوسری جانب، باہر چلتے ہوئے
راستے میں چڑھائی، سیڑھیاں یا ناہموار جگہیں آسکتی ہیں، جس سے جسم کو زیادہ محنت
کرنا پڑ سکتی ہے۔ لیکن یہ ضروری نہیں کہ باہر چلنے سے ہر بار گھر کے اندر چلنے کے
مقابلے میں زیادہ کیلوریز خرچ ہوں۔ وزن کم کرنے کے لیے چہل قدمی کے ساتھ متوازن
غذا اور مناسب مقدار میں کیلوریز کا استعمال بھی ضروری ہے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے
بات کی جائے تو، چہل قدمی کرنا موڈ کو بہتر بناتا ہے اور تناؤ کو کم کرتا ہے، چاہے
وہ کسی بھی جگہ کی جائے۔ تاہم، باہر قدرتی مناظر، ہریالی اور دن کی روشنی میں چلنے
سے زیادہ سکون ملتا ہے۔
پارکوں یا گرین ایریاز میں وقت
گزارنا ذہنی تھکاوٹ کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ دوسری طرف، گھر کے اندر چلتے ہوئے
موسیقی سننا یا ٹی وی دیکھنا بھی آپ کو پرسکون کر سکتا ہے۔ اگر آپ سارا دن دفتر یا
گھر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو مختصر وقفوں میں چلنا جسمانی سرگرمی بڑھانے کا
آسان طریقہ ہے۔ ضروری نہیں کہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے ہر بار طویل وقت تک چلنا ہی
پڑے۔
گھر میں واک کے فوائد
گھر میں چہل قدمی ان لوگوں کے
لیے خاص طور پر مفید ہوسکتی ہے جن کے پاس وقت کم ہوتا ہے یا جو موسم کی خرابی کے
باعث باہر نہیں جاسکتے۔ اگر گھر میں ٹریڈمل موجود ہو تو اپنی رفتار اور ورزش کا
دورانیہ آسانی سے طے کیا جاسکتا ہے۔ گرمی، بارش یا سرد موسم میں بھی گھر کے اندر
چلنے کا معمول برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، گھر میں مناسب جگہ دستیاب ہو
تو بغیر کسی مشین کے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ چل کر جسمانی سرگرمی جاری رکھی
جاسکتی ہے۔ نئے سرے سے ورزش شروع کرنے والے افراد کے لیے ہموار سطح پر آہستہ چلنا
ایک اچھا آغاز ہوسکتا ہے۔ بعد میں اپنی جسمانی برداشت کے مطابق رفتار اور دورانیہ
بڑھایا جاسکتا ہے۔
باہر واک کے اضافی فوائد
پارک، باغ یا کسی محفوظ کھلی
جگہ پر چہل قدمی کرنے سے جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی سکون حاصل کرنے میں بھی مدد مل
سکتی ہے۔ درختوں، سبزے اور قدرتی ماحول میں وقت گزارنے سے بعض لوگوں کو ذہنی دباؤ
کم محسوس ہوتا ہے اور مزاج بہتر ہوسکتا ہے۔ باہر چلنے کے دوران راستے کی تبدیلی،
چڑھائی اور مختلف سطحوں پر قدم رکھنے سے جسم کے توازن اور حرکت میں شامل پٹھوں کو
بھی مختلف انداز میں کام کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر چڑھائی پر چلنے سے ٹانگوں اور
کولہوں کے پٹھوں پر زیادہ زور پڑ سکتا ہے۔ دن کی روشنی میں باہر وقت گزارنا بھی
فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ تاہم، بہت زیادہ گرمی، آلودہ ہوا یا غیر محفوظ راستوں میں
چہل قدمی کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ پاکستان کے گرم موسم میں صبح یا شام کے نسبتاً
ٹھنڈے اوقات کا انتخاب زیادہ مناسب ہوسکتا ہے۔
باہر کسی پرسکون جگہ پر چلنے سے
قدرتی ماحول اور سبزے کے درمیان وقت گزارنے کا اضافی فائدہ مل سکتا ہے۔ اس کے
برعکس، گھر میں چلتے ہوئے پسندیدہ موسیقی سننا یا کام سے مختصر وقفہ لینا بھی ذہن
کو سکون پہنچا سکتا ہے۔ اگر آپ سارا دن دفتر یا گھر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں تو
مختصر وقفوں میں چلنا جسمانی سرگرمی بڑھانے کا آسان طریقہ ہے۔ ضروری نہیں کہ فائدہ
حاصل کرنے کے لیے ہر بار طویل وقت تک چلنا ہی پڑے۔
پٹھوں اور جسمانی توازن کے لیے
کیا بہتر ہے؟
باہر چلتے ہوئے راستے کی اونچ
نیچ اور مختلف سطحیں جسم کے توازن کو برقرار رکھنے والے پٹھوں کو زیادہ متحرک
کرسکتی ہیں۔ پہاڑی یا ڈھلوان والے راستے پر چلنے سے ورزش کی شدت بھی بڑھ سکتی ہے۔ ٹریڈمل
پر اس کے لیے ڈھلوان کا سہارا لیا جاسکتا ہے، جبکہ گھر میں ہموار فرش پر چلنا ان
افراد کے لیے آسان ہوسکتا ہے جو آہستہ آہستہ ورزش شروع کرنا چاہتے ہیں۔ البتہ، جن
افراد کو توازن برقرار رکھنے میں مشکل ہوتی ہے یا گرنے کا خطرہ ہوتا ہے، انہیں
اپنی جسمانی حالت کے مطابق محفوظ جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے۔
روزانہ کتنی دیر چہل قدمی کرنی
چاہیے؟
جو لوگ پہلی بار چہل قدمی شروع کررہے
ہیں، وہ روزانہ 10 سے 15 منٹ آرام دہ رفتار سے چلنے کا آغاز کرسکتے ہیں۔ جب جسم اس
معمول کا عادی ہوجائے تو دورانیہ بتدریج بڑھایا جاسکتا ہے۔ بالغ افراد کے لیے
عمومی صحت کے مقصد سے ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی شدت کی جسمانی سرگرمی،
مثلاً تیز چہل قدمی، ایک مفید ہدف ہے۔ اسے روزانہ تقریباً 30 منٹ کے پانچ سیشنز
میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ اپنی صلاحیت کے مطابق اس دورانیے کو چھوٹے حصوں میں بھی
مکمل کیا جاسکتا ہے۔ درمیانی شدت کی چہل قدمی میں سانس اور دل کی دھڑکن معمول سے
تیز ہوجاتی ہے، لیکن عام طور پر بات کرنا ممکن رہتا ہے۔ اگر چلتے ہوئے سینے میں
درد، شدید سانس پھولنے یا چکر آنے کی شکایت ہو تو ورزش روک کر طبی مشورہ لینا
چاہیے۔
کون سا طریقہ منتخب کریں؟
وزن کم کرنے اور صحت بہتر بنانے
کے لیے نہ گھر کے اندر چلنا لازمی طور پر بہتر ہے اور نہ ہی باہر چہل قدمی کرنا ہر
شخص کے لیے بہترین انتخاب ہے۔ اگر آپ کو قدرتی ماحول پسند ہے اور موسم و فضائی
معیار مناسب ہیں تو باہر چلنا اچھا انتخاب ہوسکتا ہے۔ اگر وقت کی کمی، گرمی،
آلودگی یا حفاظت کے مسائل ہوں تو گھر کے اندر چلنا بھی فائدہ مند ہے۔ سب سے بہتر
طریقہ یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو دونوں کو اپنے معمول میں شامل کریں۔ کبھی پارک میں
چہل قدمی کریں اور کبھی گھر میں چل کر اپنا ہدف پورا کریں۔ باقاعدگی، مناسب غذا
اور جسمانی سرگرمی کو معمول بنانے سے وزن قابو میں رکھنے اور مجموعی صحت بہتر
بنانے میں زیادہ مدد مل سکتی ہے۔