Business
عالمی ایندھن بحران کے دوران روس کے 3 ڈیزل بردار جہاز امریکا روانہ
روس نے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کم کرنے کے لیے امریکا کو ڈیزل فراہم کرنے کی خاطر تین ٹینکر روانہ کردیے ہیں۔
- Reading time
- 2 منٹ کا مطالعہ
- اشاعت
- 26 اکتوبر، 2026، 5:12 AM

Business
روس نے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کم کرنے کے لیے امریکا کو ڈیزل فراہم کرنے کی خاطر تین ٹینکر روانہ کردیے ہیں۔

روس نے عالمی سطح پر ایندھن کی قلت کم کرنے کے لیے امریکا کو ڈیزل فراہم کرنے کی خاطر تین ٹینکر روانہ کردیے ہیں۔ روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک Alexander Novak کے مطابق یہ ترسیل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت کی جارہی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق تینوں جہاز بحرِ اوقیانوس کے مشرقی حصے کی جانب سفر کررہے ہیں۔ سمندری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق ان میں سے ایک جہاز مالٹا کے پرچم تلے سفر کرنے والا ’آگیوئی فینینڈس‘ ہے، جو تقریباً 40 ہزار ٹن ڈیزل لے کر روسی بندرگاہ پرائمورسک سے نیویارک کی جانب روانہ ہوا۔ اس کی آمد 7 نومبر کے لگ بھگ متوقع ہے۔
روسی نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک Alexander Novak نے کہا کہ روس عالمی منڈی میں ڈیزل کی اضافی فراہمی یقینی بنائے گا۔ روس نے اکتوبر کے دوران اپنی کمپنیوں کو عالمی منڈی میں 5 لاکھ ٹن تک ڈیزل برآمد کرنے کی اجازت بھی دی ہے، تاہم ملک کی اندرونی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ روسی حکام کے مطابق آئندہ بھی ڈیزل کی ترسیل جاری رکھنے کا منصوبہ ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے 9 اکتوبر کو پیوٹن سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد روس سے ڈیزل کی اضافی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں واشنگٹن نے روسی ڈیزل کی درآمد کے لیے عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی کی اجازت دی۔
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی کی فراہمی میں رکاوٹوں کے باعث امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ستمبر میں بعض مقامات پر ڈیزل کی قیمت 6.50 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کرگئی تھی، جبکہ کیلیفورنیا کے بعض علاقوں میں یہ 8 ڈالر فی گیلن سے بھی زیادہ رہی۔ عالمی توانائی کی ترسیل میں خلل اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی مشکلات کو ایندھن کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جارہا ہے۔