خبر رساں ایجنسی اے ایف
پی کے ایک انٹرویو کے مطابق جنوبی افریقی مصنفہ کورل ہارٹ Coral Hart نے اے آئی سے تیار کردہ مواد، قارئین کے معیار،
اور سیلف پبلشنگ کے مستقبل کے گرد تنقید کا سامنا کرتے ہوئے20 ماہ میں370؍ سے زیادہ اے آئی کی مدد سے لکھی گئی کتابوں کی اشاعت کا دفاع
کیا، وہ کہتی ہیں کہ وہ آن لائن بدسلوکی کی لہر کے باوجود اس عمل کا دفاع کرتی
رہیں گی۔ ہارٹ، جو چالیس کی دہائی میں ہیں اور اپنی اصل شناخت کی حفاظت کے لیے
فرضی نام سے لکھتی ہیں، انہوں نے کہا کہ انہیں ’’10ہزار ‘‘ نفرت انگیز پیغامات اور
کئی جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر ناقدین نے انہیں
’’ٹھگ‘‘ اور’’ ویلن‘‘ کہا ہے، اور وہ پبلشنگ میں اے آئی کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی
علامت بن گئی ہیں۔ جبکہ اے آئی استعمال کرنے والے بہت کم مصنفین عوامی طور پر بات
کرتے ہیں، لیکن ہارٹ نے کہا کہ انہوں نے ایسا کرنے کا انتخاب کیا کیونکہ بات چیت
شروع کرنے کی ضرورت ہےاور ٹیکنالوجی بند نہیں ہوگی۔
انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مختلف اے آئی
ماڈلز سیکھنے اور کتاب تیار کرنے کے قابل عمل فلو بنانے میں تین ماہ لگے۔تقریباً20؍ ماہ قبل اے آئی کی طرف رخ کرنے سے پہلے، ہارٹ
نے۱14؍ سال تک پبلشنگ میں کام کیا اور اس کے بغیر کئی
درجن کتابیں لکھیں۔وہ اب مختلف ٹولز کے درمیان باری باری کام کرتی ہیں، چیٹ جی پی
ٹی کو مکالمے میں مضبوط لیکن نثر میں کمزور، کلاڈ کو کہانی کی ساخت پر مضبوط، اور
گروک کو ’’بے قابو‘‘ لیکن زیادہ مسالہ دار مناظر کے لیے مفید قرار دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا محض اے آئی سے کتاب لکھنے کو کہنے سے خراب نتائج برآمد ہوتے
ہیں۔ اس کے بجائے، وہ سسٹم کے مسودہ تیار کرنے سے پہلے تصور، انداز، کردار کی
تفصیلات اور باب کے خاکے فراہم کرتی ہیں۔ہارٹ نے کہا کہ انہیں کبھی ایک پیراگراف
تیار کرنے کے لیے دو یا تین پرامپٹس کی ضرورت ہوتی تھی، جبکہ اب وہ ایک ہی ترتیب
میں پوری کتاب کا مسودہ تیار کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے بعد سے
نثر، نحو اور جملے کی ساخت میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’پہلے
مسودے عام طور پر کمزور ہوتے ہیں، اس لیے انہیں ترقیاتی ترامیم اور تسلسل کی جانچ
کے لیے دوبارہ اے آئی کے ذریعے گزارا جاتا ہے، جس میں فلیٹ مڈلز، نامکمل کردار
آرکس، چھوڑے گئے پلاٹ تھریڈز اور رنگ بدلنے جیسے مسائل شامل ہیں۔ ایک انسانی پروف
ریڈر پھر باقی ماندہ اے آئی کے آثار کو ہٹاتا ہے اور جہاں ضرورت ہو دوبارہ لکھتا
ہے۔
واضح رہے کہ ان کے۳۷۱؍ عنوانات میں سے زیادہ تر، جن میں سے بیشتر
رومانی ہیں، مارکیٹ ریسرچ کا استعمال کرتے ہوئے مخصوص قارئین کے لیے تیار کیے گئے
ہیں، حالانکہ ایک ناول ایمیزون کے ٹاپ100 بیسٹ سیلرز تک پہنچا۔ ہارٹ کا اندازہ ہے کہ
انہوں نے ڈیجیٹل، پرنٹ اور آڈیو فارمیٹس میں 10 لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت کی
ہیں، اس سال ایک ملین ڈالر سے زیادہ کمایا ہے۔ وہ دس سے زیادہ دیگر قلمی ناموں سے
شائع کرتی ہیں اور اپنےاے آئی کے استعمال کا انکشاف صرف اس وقت کرتی ہیں جب سیلز
پلیٹ فارم اس کا تقاضا کرتا ہے۔بعد ازاں ان کی کمپنی نے کئی سو لوگوں کو ان کے
طریقہ کار کی تربیت دی ہے اوراے آئی مصنفین کے لیے Authorythm نامی سافٹ ویئر لانچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ہارٹ، جن پر باقاعدگی
سے’’ اے آئی کا کچرا‘‘تیار کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے، نے کہا کہ فروخت ہی
معیار کا اصل پیمانہ ہے۔ انہوں نے کہا، ’’قارئین ردی کتابیں نہیں پڑھتے؛ وہ انہیں
واپس کر دیتے ہیں۔‘‘