حوزہ/
برطانیہ میں مقیم ایک سینئر یہودی عالم نے کہا کہ اسرائیل کا خاتمہ 100 فیصد قریب
ہے اور یہ دن بہت جلد آئے گا اور ہم اس کے لیے دعاگو ہیں۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برطانیہ میں
مقیم ایک سینئر یہودی عالم نے کہا کہ اسرائیل کا خاتمہ 100 فیصد قریب ہے اور یہ دن
بہت جلد آئے گا اور ہم اس کے لیے دعاگو ہیں۔ یہودی مذہبی رہنما حنان بیک Elhanan
Beck نے العالم ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے صیہونی حکومت
کے بارے میں برطانیہ میں بسنے والے اقلیتی یہودیوں کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے
اس بات پر زور دیا کہ غزہ میں آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ درحقیقت اجتماعی نسل کشی ہے
، یہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو 80 سال پہلے یہودیوں کے ساتھ ہوا تھا، اور صہیونی اس
وقت غزہ کے لوگوں کے ساتھ یہی کچھ کر رہے ہیں اور یہ پاگلانہ رویہ ہے، اس برا اور
کیا ہو سکتا کہ وہ یہ کام یہودیوں کے نام پر کر رہے ہیں ، وہ تورات اور خدا کے نام
پر یہ گھنونا کام کر رہے ہیں۔
یہودی مذہبی رہنما حنان بیک Elhanan
Beck نے کہا کہ صیہونی حکومت کے اہلکاروں کے خلاف
عالمی عدالت انصاف میں مقدمہ چلنا چاہیے اور یہاں میں یہ حقیقت بیان کرنا ضروری
سمجھتا ہوں کہ مسئلے کی اصل جڑ یہودیوں کا فلسطین میں ناجائز قبضہ ہے۔ انہوں نے
مزید کہا کہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے 7 اکتوبر سے شروع نہیں ہوئے بلکہ 75 سال پہلے
شروع ہوئے تھے اور صہیونی حکومت کے مظالم اور فلسطینیوں کی زمینوں پر غاصب صیہونی
حکومت کے جرائم سے سب واقف ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ
فلسطینی قوم کی زمین انہیں واپس دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہودیوں کو وہاں سے نکال
دیا جائے بلکہ وہ وہاں فلسطینی حکومت کی زیر نگرانی حفاظت سے رہ سکتے ہیں جس طرح
تمام اسلامی ممالک اور ایران میں یہودی امن سے رہ رہے ہیں۔ اس یہودی عالم نے اپنے
دوستوں کے دورہ ایران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہودی ایران میں پرامن طریقے
سے رہ رہے ہیں اور ان کے اسپتال اور ارکان پارلیمنٹ بھی ایران میں ہیں اور اسی وجہ
سے ہمارا اصرار ہے کہ ہم فلسطین میں امن سے رہ سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اسرائیل
کے خاتمے کے لیے ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ دن جلد آئے۔