ٹوکیو:
ہونڈا نے ایک ایسی انقلابی ٹیکنالوجی تیار کر لی ہے جس کے تحت سڑکیں اب چلتی ہوئی
الیکٹرک گاڑیوں کو وائرلیس طریقے سے بجلی فراہم کریں گی۔ اس نظام کی بنیادی ٹیکنالوجی مکمل ہو چکی ہے اور
جاپان میں 2027 سے اس کے عملی تجربات کا باقاعدہ آغاز کیا جائے گا۔ اس انقلابی
ٹیکنالوجی کے تحت سڑک کی سطح کے نیچے خصوصی کوائلز نصب کی جائیں گی، جبکہ گاڑی کے
نچلے حصے میں توانائی وصول کرنے والا یونٹ لگایا جائے گا۔ سڑک میں نصب کوائل ایک
مقناطیسی میدان پیدا کرے گی، جسے گاڑی کا یونٹ بجلی میں تبدیل کر کے بیٹری تک
پہنچا دے گا۔
ہونڈا کا مقصد ہے کہ اس
نظام کے ذریعے 150 کلوواٹ تک بجلی منتقل کی جائے، جو کہ جدید فاسٹ چارجرز کے مساوی
ہے۔ اس منصوبے میں ابتدائی طور پر ٹرکوں اور تجارتی گاڑیوں پر توجہ مرکوز کی گئی
ہے تاکہ طویل سفر کے دوران انہیں بار بار رکنے کی زحمت نہ ہو۔اس نظام کے بڑے فوائد
میں گاڑیوں کے مجموعی وزن میں کمی شامل ہے۔ جب سڑک سے ہی بجلی ملتی رہے گی تو
الیکٹرک گاڑیوں کو ہزاروں کلوگرام وزنی بڑی بیٹریوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس سے
گاڑیوں کی پیداواری لاگت میں کمی آئے گی اور صارفین کے لیے سفری اخراجات مزید سستے
ہو سکیں گے۔اس میدان میں صرف ہونڈا ہی نہیں بلکہ اسرائیلی کمپنی الیکٹریون نے بھی
فرانس میں پیرس کے قریب ڈیڑھ کلومیٹر طویل موٹروے پر وائرلیس چارجنگ کی کامیاب
آزمائش کی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے
مطابق یہ ٹیکنالوجی نقل و حمل کے شعبے میں طویل المیعاد بنیادوں پر انتہائی اہم
اور انقلابی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اس منصوبے کو بھاری مالیاتی چیلنجز کا سامنا
ہے۔ ہر سڑک کے نیچے چارجنگ یونٹس نصب کرنا انتہائی مہنگا اور پیچیدہ کام ہے۔ اس کے
علاوہ ان یونٹس کی مرمت، حفاظت اور مختلف گاڑیوں کے ساتھ مطابقت پیدا کرنا بھی بڑی
رکاوٹیں ہیں جنہیں دور کرنا ابھی باقی ہے۔ مستقبل میں یہ نظام پاکستان جیسی ترقی
پذیر معیشتوں کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل بن سکتا ہے۔ اگرچہ فی الحال یہ ٹیکنالوجی
صرف ترقی یافتہ ممالک کے تجرباتی مراحل میں ہے، مگر کامیابی کی صورت میں یہ
ٹرانسپورٹ کے شعبے کی پوری تصویر بدل کر رکھ سکتی ہے۔