ایرانی
سرکاری میڈیا نے بتایا کہ ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی کی
روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے یہ ملاقات ایسے وقت پر ہوئی، جب ایرانی مذاکرات کاروں نے امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی تجاویز پر تبادلہ خیال کے
لیے ثالثوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ دوسری طرف جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد یہ فیصلہ کریں گے کہ
ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ ایران
کے سرکاری میڈیا کے مطابق محسن رضائی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ
ای کا ایک پیغام بھی صدر پوٹن کو پہنچایا۔ ملاقات
کے بعد محسن رضائی نے کہا کہ صدر پوٹن کے ساتھ اہم علاقائی امور پر تبادلہ خیال
کیا گیا اور جنگ کے بعد کی صورتحال اور علاقائی سلامتی کے انتظامات کے حوالے سے
اہم گفتگو ہوئی۔
ایرانی
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے بدھ کو اپنے ایک تحریری بیان میں کہا تھا کہ امریکہ
کے سامنے جھکنے کی ''ذرا سی بھی خواہش‘‘ نہیں ہونا چاہیے۔ امن
کی کوششوں میں بنیادی توجہ آبنائے ہرمز کی مستقبل کی حیثیت، ایرانی بندرگاہوں کی
امریکی ناکہ بندی، اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیوں اور تہران کے جوہری پروگرام
سے متعلق مذاکرات کی بحالی پر مرکوز ہے۔ ایک
اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رواں ہفتے کہا تھا کہ امریکہ اور ایران دونوں کے درمیان
اختلافات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔ محسن
رضائی نے مزید کہا، ''ہم نے انہیں بتایا ہے کہ سفارت کاری کے معاملے پر ہم نے
امریکیوں کے سامنے سات شرائط پیش کی ہیں۔ جب تک وہ ہماری سات شرائط پر عمل درآمد نہیں کرتے، ہم نہ تو آبنائے ہرمز کھولیں گے
اور نہ ہی مذاکرات کریں گے۔‘‘
ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع
کرنے کا فیصلہ جلد، ٹرمپ
امریکی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز کہا کہ وہ جلد فیصلہ کریں گے کہ ایران کے خلاف
جنگ دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔ فروری
میں امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ طور پر شروع کی گئی
اس جنگ کا اعلان کردہ مقصد تہران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے سے روکنا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے
صدر ٹرمپ نے کہا، ''کیا ہم ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے اور اس
بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں کہ ایسا دوبارہ کبھی نہ ہو؟‘‘
انہوں نے مزید کہا، ''اگر ممکن ہو تو میں باقی ملک کو تباہ کرنا پسند
نہیں کروں گا، لیکن شاید مجھے ایسا کرنا پڑے۔
آپ کو جلد ہی معلوم ہو جائے گا۔‘‘
صدر
ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے مشیروں کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا کہ امریکہ ایران
کے حوالے سے ''ہر وہ چیز حاصل کر چکا ہے جس پر ہم کنٹرول چاہتے تھے۔‘‘ انہوں نے
کہا، ''اب ہم فیصلہ کریں گے۔‘‘
امریکی
نیوز ویب سائٹ ایکسیئس نے ایک سرکردہ امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ
امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) ایران میں بڑے پیمانے پر ممکنہ فوجی
کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی تیاریوں میں تیزی لا رہی ہے، تاہم اسے ابھی تک واشنگٹن سے کوئی نئے احکامات موصول نہیں ہوئے۔
روسی گیس پائپ
لائن پر تبادلہ خیال
ایران
کے سرکاری ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ صدر پوٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران
روس سے ایران تک گیس پائپ لائنوں کی تعمیر پر بھی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ایران کو اپنی
گیس کی قلت دور کرنے کے ساتھ ساتھ روسی گیس ہمسایہ ممالک کو فروخت کرنے میں سہولت
فراہم کرنا بھی ہے۔ ایران
قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے۔ اس کے باوجود طویل عرصے سے گیس
کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ شروع ہونے والی
جنگ کے باعث گیس کی قلت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ تہران
کے مطابق جنگ کے شدید ترین مرحلے کے دوران، جو تقریباً 40 روز جاری رہا، دونوں
ممالک نے ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس میں قدرتی گیس کی
ریفائنریاں بھی شامل تھیں۔ روس
اور ایران دنیا کے ان ممالک میں شامل ہیں، جن پر سب سے زیادہ امریکی پابندیاں عائد
ہیں۔ 2022 میں ماسکو کی جانب سے یوکرین پر بڑے پیمانے پر فوجی حملے کے آغاز کے بعد
سے ماسکو اور تہران کے باہمی تعلقات مزید قریبی ہو چکے ہیں۔