انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو (Prabowo Subianto) کی
مبینہ فون ٹیپنگ اور خفیہ نگرانی کے اسکینڈل میں پولیس نے ایک اور اعلیٰ افسر کو
ملزم نامزد کردیا ہے، جس کے بعد مقدمے میں نامزد ملزمان کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔ اس معاملے نے صدر پرابوو (Prabowo Subianto) اور
ان کے پیش رو اور سابق سیاسی اتحادی جوکو ویدودو (Joko Widodo) کے
درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بھی نمایاں کردیا ہے، جبکہ ملک میں سیکیورٹی سے متعلق
خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انڈونیشی پولیس نے جمعرات کی شب ایک پریس
کانفرنس میں سینیئر پولیس افسر کو، جس کی شناخت ابتدائی طور پر ایس یو کے نام سے
ظاہر کی گئی، اس مقدمے کا چوتھا ملزم قرار دیا، مقامی ذرائع ابلاغ نے بعد میں اس
افسر کی شناخت سلامیت اولیاندی (Salimit Oliandi) کے
نام سے کی۔ پولیس کے مطابق ایس یو 2010 سے
2019 تک انڈونیشیا کے کرمنل انویسٹی گیشن ایجنسی میں مانیٹرنگ چیف کے عہدے پر
تعینات رہا، جبکہ 2021 سے 2026 تک اسی ادارے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی یونٹ کی
سربراہی بھی کرتا رہا۔ تفتیش
کاروں کا الزام ہے کہ صدر کی خفیہ نگرانی کے لیے اسی افسر سے منظوری حاصل کی گئی
تھی۔
سائبر کرائم یونٹ کے ڈائریکٹر سوہرمینتو (Suharminto) نے پریس
کانفرنس میں بتایا کہ دیگر 2 ملزمان نے صدر کی فون ٹیپنگ شروع کرنے سے قبل ایس یو
سے اجازت لی تھی۔ ان
کے مطابق نگرانی سے متعلق ریکارڈ حذف کرنے سے پہلے بھی مذکورہ افسر کی منظوری حاصل
کی گئی، پولیس کا کہنا ہے کہ صحت کی خرابی کے باعث ایس یو کو تاحال حراست میں نہیں
لیا گیا۔ اس سے قبل منگل کو 3 اعلیٰ
پولیس افسران کو گرفتار کیا گیا تھا، جن میں سابق قومی پولیس سربراہ اور صدر
پرابوو (Prabowo
Subianto) کے چیف آف اسٹاف لیستیو سگیت پرابوو (Listyo Sigit Prabowo) بھی شامل ہیں، جنہیں
سابق صدر جوکو ویدودو (Joko Widodo) کا
قریبی وفادار سمجھا جاتا ہے۔ پولیس
تاحال اس بات کی تحقیقات کررہی ہے کہ صدر کی مواصلاتی سرگرمیوں کی خفیہ نگرانی کی
کوششوں کے پیچھے کون سے مقاصد کارفرما تھے۔ حکام
اب تک 13 پولیس اہلکاروں اور جرائم و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 5 ماہرین سے پوچھ گچھ
کرچکے ہیں۔ قومی پولیس سربراہ نے معاملے کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی
ہے۔ اس اسکینڈل کے باعث صدر پرابوو (Prabowo
Subianto) پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، انہیں پہلے ہی مہنگی عوامی فلاحی
پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی عوامی ناراضی اور ملک کی تقریباً 1.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت
میں سرمایہ کاروں کے کم ہوتے اعتماد جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
دوسری جانب جمعرات اور جمعہ کو دارالحکومت جکارتہ میں صورت حال بظاہر
پُرسکون رہی، تاہم اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ہزاروں فوجی اہلکار تعینات کیے گئے،
شہر میں فوجی خیمے، بسیں اور محدود تعداد میں فوجی اہلکار بھی دیکھے گئے۔ پرابوو سوبیانتو (Prabowo Subianto) نے
2024 کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد اقتدار سنبھالا
تھا، وہ سابق صدر جوکو ویدودو (Joko Widodo) کی
پالیسیوں کے تسلسل کے امیدوار سمجھے جاتے تھے، ویدودو (Joko Widodo)کے بیٹے گبران
راکابومنگ راکا (Gibran
Rakabuming Raka) بھی
پرابوو (Prabowo
Subianto) کے ساتھ نائب صدر منتخب ہوئے تھے۔ ادھر
انڈونیشیا کے قانون ساز راکا (Raka) کی بطور نائب
صدر اہلیت کی تحقیقات پر بھی غور کررہے ہیں، اس معاملے میں ممکنہ پارلیمانی
کارروائی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی جانب پہلا قدم قرار دیا جارہا ہے۔