واشنگٹن: امریکا کا قومی قرض تاریخ کی بلند ترین سطح 40.4 ٹریلین
ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جس سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے مالیاتی استحکام پر شدید
سوالات اٹھ رہے ہیں۔ عالمی
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ اضافہ گزشتہ محض 2 ماہ کے قلیل عرصے میں رپورٹ کیا
گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اگست میں یہ قرض 40
ٹریلین ڈالر کی سطح کو عبور کر چکا تھا، جس کے بعد اس میں مزید ایک فیصد کا اضافہ
ریکارڈ کیا گیا ہے۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال ملکی ترقی کے لیے
تشویشناک ہے۔ وفاقی حکومت کو قرضوں پر سود کی مد میں سالانہ 970
ارب ڈالر ادا کرنے پڑ رہے ہیں، جو کہ ملک کے کل دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔ سن
2020 کے بعد سے ان سود کی ادائیگیوں میں تین گنا اضافہ ہوا ہے، جس نے خزانے پر
بوجھ ڈال دیا ہے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا
ہے کہ اگر ٹیکس نظام یا حکومتی اخراجات میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو اگلے 6 برس
میں یہ قرض 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ اس صورت میں وفاقی حکومت کے لیے دیگر
اہم شعبوں میں وسائل فراہم کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ ایک اندازے کے مطابق آئندہ ایک دہائی میں امریکا کا قومی قرض اس کی
مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 120 فیصد تک جا پہنچے گا۔ یعنی حکومت پر کل
قرض اس ملک میں ایک سال میں پیدا ہونے والی تمام اشیا و خدمات سے بھی زیادہ ہو گا۔ بڑھتا ہوا مالی بوجھ مستقبل میں صحت، سماجی بہبود
اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے گا۔ بلند شرح سود کے باعث
نئے قرضے حاصل کرنا بھی امریکی حکومت کے لیے مزید مہنگا اور دشوار ہوتا جا رہا ہے،
جس سے ملک میں معاشی غیر یقینی کی فضا قائم ہے۔
امریکی قومی قرض کی یہ بے
لگام رفتار واشنگٹن کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے۔ اگر بروقت ٹھوس اقدامات نہیں کیے
گئے تو امریکی حکومت کو اپنے مالی معاملات کو متوازن رکھنے کے لیے سخت فیصلوں کا
سامنا کرنا پڑے گا، جس کے اثرات عالمی منڈیوں پر بھی مرتب ہوں گے۔
روسی خبر رساں ادارے
تاس کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ
امریکا کا قومی قرض 19 اگست 2026 کو پہلی مرتبہ 40 ٹریلین ڈالر کی سطح تک پہنچا تھا،
جس کے بعد اس میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ قرض میں اضافے کے ساتھ اس پر سود کی ادائیگیاں بھی امریکی حکومت کے
لیے بڑا مالی بوجھ بنتی جارہی ہیں۔ پیٹرسن انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے
مطابق اگر حکومتی اخراجات اور ٹیکسوں کے نظام میں اصلاحات نہ کی گئیں تو امریکی
قومی قرض آئندہ چھ برس کے دوران 50 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک تشویش کی بنیادی وجہ قرض کا
بڑھتا ہوا حجم ہی نہیں بلکہ سود کی ادائیگیوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ بھی ہے۔
قرض کی ادائیگیوں پر زیادہ رقم خرچ ہونے سے دفاع، صحت، سماجی بہبود اور دیگر
سرکاری شعبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ شرح سود بلند
رہنے کی صورت میں حکومت کے لیے مزید قرض حاصل کرنا بھی مہنگا پڑ سکتا ہے۔