واشنگٹن: امریکا میں کھیلوں کے بعد سیاست بھی سٹے بازی کا بڑا مرکز
بن گئی، 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس، سینیٹ اور گورنروں کی نشستوں پر کروڑوں ڈالرز کے دائو لگائے
جا رہے ہیں جوئے کی امریکی انتخابی پیشگوئی کی منڈی کیلشی کے مطابق گزشتہ 30
دنوں کے دوران مختلف انتخابی منڈیوں میں تقریباً 45 کروڑ 42 لاکھ ڈالرز کا سٹہ
لگایا گیا جبکہ صرف 31 اکتوبر کو 1 روز میں 3 کروڑ 83 لاکھ ڈالرز دائو پر لگائے گئے.
انتخابی سٹے بازی میں سب سے زیادہ توجہ ٹیکساس کی سینیٹ کی نشست پر
ہے جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹیلاریکو (James Talarico) اور ریپبلکن امیدوار کین پیکسٹن (Ken Paxton) کے درمیان مقابلے پر 6 کروڑ 85 لاکھ ڈالرز دائو پر لگائے جا چکے ہیں،
سٹے بازوں کے مطابق ٹیلاریکو (James Talarico) کی کامیابی کا امکان 69 فیصد
جبکہ پیکسٹن (James
Talarico) کا 31 فیصد ہے ٹیکساس کی گورنر کی نشست پر موجودہ ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ (Greg Abbott) اور ڈیموکریٹک امیدوار جینا ہینوہوزا (Gina Hinojosa) کے درمیان مقابلے میں ایبٹ کی کامیابی کا امکان
66 فیصد اور ہینوہوزا (Gina Hinojosa) کا 34 فیصد ظاہر کیا گیا ہے دیگر ریاستوں میں بھی سینیٹ انتخابات پر بھاری رقوم داﺅ پر لگی ہوئی ہیں.
ریاست
مین میں ڈیموکریٹک امیدوار ٹرائے جیکسن (Troy Jackson)
اور ری پبلکن سینیٹر سوزن کولنز (Susan Collins) کے مقابلے پر تقریباً 1
کروڑ 65 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا ہے جہاں جیکسن
(Troy Jackson) کی کامیابی کا امکان 69 فیصد اور کولنز (Troy Jackson) کا 31 فیصد ہے مشی گن
میں سینیٹ کے مسلمان امیدوار عبدالسید (Abdul
El-Sayed) اور مائیک راجرز (Mike Rogers)
، اوہائیو میں شیروڈ براﺅن (Sherrod Brown) اور جان ہسٹڈ (Jon Husted)،
آئیووا (Ohio)
میں جوش ٹیورک (Josh Turek)
اور ایشلے ہنسن (Ashley Hinson) جبکہ
کنساس میں ایڈم ہیملٹن (Adam Hamilton) اور راجر مارشل (Roger
Marshall)کے مقابلوں پر بھی سٹے بازوں کی نظریں جمی
ہوئی ہیں.
گورنروں کے انتخابات میں بھی جوئے کا سلسلہ جاری ہے، اوہائیو م(Ohio)یں ڈیموکریٹک امیدوار ایمی ایکٹن (Amy Acton) اور
ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کے مقابلے پر تقریباً 76 لاکھ ڈالرز کا سٹہ لگا
جہاں ایکٹن (Amy Acton) کی کامیابی کا امکان 79 فیصد اور راماسوامی کا 21 فیصد ظاہر کیا
گیا ہے صدر ٹرمپ کی رہائشی ریاست فلوریڈا میں ری پبلکن امیدوار بائرن ڈونلڈز (Byron Donalds) اور
ڈیموکریٹک امیدوار ڈیوڈ جولی (David Jolly) سمیت جارجیا (Nevada)،
نیواڈا اور کنساس کے گورنر انتخابات بھی سٹے بازوں کی توجہ کا مرکز ہیں کیلشی پر
سٹے باز کسی امیدوار کی کامیابی یا ناکامی سے متعلق ہاں یا نہیں کے معاہدے خریدتے
ہیں، مثال کے طور پر اگر کسی امیدوار کی کامیابی کا معاہدہ 70 سینٹ میں خریدا جائے
اور وہ امیدوار جیت جائے تو معاہدے کی مالیت 1 ڈالرز ہو جاتی ہے جس سے فیس نکال کر
خریدار کو منافع ملتا ہے تاہم امیدوار کی شکست کی صورت میں معاہدے کی مالیت صفر ہو
جاتی ہے اور سٹے باز اپنی پوری رقم سے محروم ہو جاتا ہے.
انتخابی سرویز، امیدواروں کے بیانات اور سیاسی پیش رفت کے ساتھ ان
معاہدوں کی قیمتیں مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہیں تاہم کیلشی (Kelsey) پر
کسی امیدوار کی کامیابی کا 70 فیصد امکان ظاہر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے 70
فیصد ووٹ ملیں گے بلکہ یہ اس وقت کی خرید و فروخت اور سٹے
بازوں کی توقعات کی عکاسی کرتا ہے. اسی طرح کسی انتخابی منڈی میں 5 کروڑ ڈالرز کے
داﺅ کا مطلب یہ نہیں کہ پوری رقم کسی ایک امیدوار کی کامیابی
پر لگائی گئی ہے، اس میں مختلف امیدواروں کے حق اور مخالفت میں لگنے والی شرطیں اور
ایک ہی معاہدے کی بار بار خرید و فروخت بھی شامل ہوتی ہے امریکی سیاسی سٹے بازی میں
اضافے نے نئی بحث چھیڑ دی ہے، اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پیش گوئیوں کی یہ منڈیاں
مختلف معلومات اور سیاسی توقعات کو یکجا کر کے انتخابی صورتِ حال کا اندازہ لگانے
میں مدد دیتی ہیں جبکہ ناقدین کے مطابق اس سے بڑے سرمایہ کاروں کا اثر بڑھتا ہے
اور جمہوری عمل نفع و نقصان کے کھیل میں تبدیل ہونے کا خدشہ ہے.
کیلشی امریکی کموڈٹی فیوچرز ٹریڈنگ کمیشن کی نگرانی میں کام کرتا ہے
اور ان سرگرمیوں کو جوئے کے بجائے انتخابی نتائج سے منسلک مالیاتی معاہدوں کی خرید
و فروخت قرار دیتا ہے 3 نومبر کو انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد درست اندازہ
لگانے والے سٹے باز منافع کمائیں گے جبکہ غلط پیش گوئی کرنے والوں کو اپنی رقم سے
ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے، یوں امریکی انتخابات میں امیدواروں کے ساتھ ساتھ کروڑوں
ڈالرز داﺅ پر لگانے والے جواریوں کے لیے بھی ہار اور جیت کا
فیصلہ ہو گا.