جب کوئی نیا ورکر جنوبی
کوریا جا کر مستقل طور پر آباد ہونے کا سوچتا ہے، تو اس کا سفر سب سے پہلے E-9 ویزا سے شروع ہوتا ہے، جسے نان پروفیشنل ورک
ویزا کہا جاتا ہے۔ اگر آپ اپنے ملک میں موجود ہیں تو آپ سیدھے طور پر ہنر مند یا
رہائشی ویزے پر کوریا نہیں جا سکتے، بلکہ اس کا باقاعدہ سرکاری راستہ ایمپلائمنٹ
پرمٹ سسٹم
(EPS) کے تحت طے ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر، فرض کریں ایک نوجوان احمد پاکستان میں ہے اور کوریا جانا چاہتا
ہے؛ اسے سب سے پہلے اپنے ملک میں کوریائی زبان کا بنیادی امتحان (EPS-TOPIK) اور اسکل ٹیسٹ اچھے نمبروں سے پاس کرنا ہوگا۔ جب
وہ یہ مراحل پاس کر لیتا ہے، تو اس کا نام کوریا کے سرکاری جاب روسٹر میں درج ہو
جاتا ہے، جہاں کوریائی فیکٹریاں یا فارمز ورکرز کا انتخاب کرتے ہیں۔ جاب کنٹریکٹ
ملنے کے بعد احمد کو E-9
ویزا ملتا ہے، جس کے
تحت وہ کوریا جا کر کسی مینوفیکچرنگ فیکٹری یا زراعت کے شعبے میں کام شروع کرتا
ہے۔ E-9
ویزے پر ابتدائی طور پر
تین سال کا قیام ملتا ہے، جسے اسی کمپنی کی رضامندی سے ایک سال دس ماہ کے لیے بڑھا
دیا جاتا ہے، یعنی احمد کے پاس کوریا میں قانونی طور پر کام کرنے کے لیے کل چار
سال دس ماہ کا وقت ہوتا ہے۔ اس پہلے مرحلے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ ورکر کو سخت
محنت کے ساتھ ساتھ اپنی زبان کو بہتر بنانا ہوتا ہے اور کسی بھی قانونی خلاف ورزی
سے بچنا ہوتا ہے تاکہ وہ اگلے مرحلے کے لیے خود کو تیار کر سکے۔
کوریا میں مسلسل چار
سال تک قانونی طور پر کام کرنے کے بعد ورکر اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے E-9 ویزے کو E-7-4 ویزا، یعنی ہنر مند کارکن (Skilled Workforce) کے ویزے میں تبدیل کروائے، جو دراصل ایک پوائنٹس سسٹم پر کام کرتا
ہے۔ مثال کے طور پر، احمد جب اپنی فیکٹری میں چار سال مکمل کر لیتا ہے، تو اب اس
کے پاس E-9
ویزے کے چند ماہ باقی
رہ جاتے ہیں اور عام طور پر ورکرز کو اس وقت ملک واپس جانا پڑتا ہے، لیکن اگر احمد
نے ان چار سالوں میں کورین امیگریشن اینڈ انٹیگریشن پروگرام (KIIP) یا کوریائی زبان کا امتحان (TOPIK) پاس کر کے لیول 3 یا 4 حاصل کر لیا ہو، اس کی سالانہ تنخواہ
تقریباً 26 سے 30 ملین وان یا اس سے زائد ہو، اور اس کی فیکٹری کا مالک اس کے کام
سے مطمئن ہو کر اسے سفارشی خط
(Recommendation) فراہم
کرے، تو احمد کے پوائنٹس مطلوبہ حد تک پہنچ جاتے ہیں۔ ان پوائنٹس میں عمر، تنخواہ،
تعلیم، اور ایک ہی کمپنی کے ساتھ وفاداری کے اضافی نمبر شامل ہوتے ہیں۔ جب احمد
اپنی درخواست جمع کرواتا ہے اور امیگریشن اسے E-7-4 ویزا جاری کر دیتی ہے، تو اس کے سر سے اپنے ملک واپس بھیجے جانے کا
خطرہ ہمیشہ کے لیے ٹل جاتا ہے، اس کا ویزا ہر ایک یا دو سال بعد کوریا کے اندر
رہتے ہوئے ہی رینیو ہوتا رہتا ہے، اور سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیوی
اور بچوں کو بھی F-3
ویزے پر کوریا بلا کر
اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے۔
E-7-4 ویزا حاصل کرنے کے بعد اگلا بڑا قدم F-2 ویزا حاصل کرنا ہوتا ہے، جسے طویل مدتی رہائشی
ویزا
(Long-Term Residence) کہا جاتا ہے، اور یہ ایک ورکر کو فیکٹری اور مخصوص آجر کی سخت
پابندیوں سے مکمل آزادی فراہم کرتا ہے۔ موجودہ روایتی قوانین کے مطابق E-7-4 ویزے پر تقریباً پانچ سال کا عرصہ گزارنے کے بعد
ورکر F-2
ویزے (عام طور پر F-2-99 کیٹیگری) کے لیے درخواست دے سکتا ہے، حالانکہ
کورین حکومت اس مدت کو کم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر، احمد اب
اپنی فیملی کے ساتھ کوریا میں رہ رہا ہے اور پچھلے پانچ سالوں سے ایک ہنر مند ورکر
کے طور پر
E-7-4 ویزے پر کام کر رہا ہے؛
اس دوران اس نے کوریائی زبان کا پروگرام (KIIP) لیول 4 یا 5 تک مکمل کر لیا ہے، اس نے کچھ بچت کر کے کورین بینک
میں ڈیپازٹ یا فلیٹ کے لیے جیونسے
(Jeonse) رقم کے طور پر اثاثے
بنا لیے ہیں، اور اس کی سالانہ خاندانی آمدنی کوریا کی فی کس آمدنی کے قومی معیار
پر پورا اترتی ہے۔ جب احمد ان تمام مالیاتی، زبانی اور ٹیکس ادائیگی کے شواہد کے
ساتھ درخواست دیتا ہے، تو اسے F-2
ویزا مل جاتا ہے۔ اس
مرحلے پر احمد اب قانونی طور پر کسی ایک مخصوص فیکٹری کے اسپانسرشپ کا پابند نہیں
رہتا، وہ آزادانہ طور پر جاب مارکیٹ میں بہتر تنخواہ والی نوکریوں کا انتخاب کر
سکتا ہے، اور اس کی شریکِ حیات کو بھی کوریا میں باقاعدہ کام کرنے کی اجازت مل
جاتی ہے۔
اس پورے سفر کا آخری اور حتمی مرحلہ F-5 ویزا ہے، جسے پرماننٹ ریزیڈنسی (Permanent Residency یا PR)
کہا جاتا ہے، جس کے بعد
آپ تاحیات جنوبی کوریا کے مستقل رہائشی بن جاتے ہیں۔ F-2 ویزا
حاصل کرنے کے بعد عام طور پر مزید دو سے تین سال کا عرصہ گزارنے پر، یعنی کوریا
میں مجموعی طور پر تقریباً دس سے بارہ سال کا طویل، صاف ستھرا اور کامیاب قیام
مکمل کرنے کے بعد ایک ورکر F-5
ویزے کے لیے اہل ہوتا
ہے۔ مثال کے طور پر، احمد اب کوریا کے سماج اور نظام میں مکمل طور پر رچ بس چکا
ہے، اس نے کورین سوشل انٹیگریشن پروگرام کا فائنل لیول 5 مکمل کر کے اس کا جامع
امتحان
(Comprehensive Test) پاس کر لیا ہے تاکہ یہ ثابت ہو سکے کہ وہ کوریائی ثقافت، تاریخ اور
قوانین کو روانی سے سمجھتا ہے، اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ اس کے
علاوہ مالی لحاظ سے اس کی اور اس کی فیملی کی مجموعی سالانہ آمدنی کوریا کی فی کس
قومی مجموعی آمدنی یعنی GNI
سے دگنی یا امیگریشن کی
طے کردہ مطلوبہ حد کے مطابق ہونی چاہیے۔ جب امیگریشن احمد کی تمام تر شرائط کی
تصدیق کر لیتی ہے تو اسے F-5
ویزا جاری کر دیا جاتا
ہے؛ اس گرین کارڈ نما حیثیت کے بعد احمد کو کبھی بھی نوکری چھوڑنے یا تبدیل کرنے
پر ملک بدری کا خوف نہیں رہتا، اسے ہر وقت ویزا ایکسٹینشن کے لیے دفتری چکر نہیں
لگانے پڑتے، اسے مقامی بینکوں اور سماجی مراعات تک مکمل رسائی مل جاتی ہے، اور اگر
وہ چاہے تو مستقبل میں کورین پاسپورٹ اور شہریت کے حصول کے لیے بھی باضابطہ
درخواست دے سکتا ہے۔
جنوبی کوریا میں غیر ملکیوں کے لیے قانونی طور پر سیٹل ہونے اور
ویزا تبدیل کرنے کا باقاعدہ سرکاری نظام موجود ہے۔ اس کا حتمی ہدف ایف-5 (F-5) ویزا یعنی مستقل رہائش (Permanent
Residency) حاصل
کرنا ہوتا ہے۔ کوریا میں عام طور پر دو
بڑے راستوں (Tracks) کے ذریعے ویزا تبدیل کرتے ہوئے مستقل رہائش
تک پہنچا جاتا ہے۔
ذیل میں اس کا مکمل اور باقاعدہ روڈ میپ درج ہے:
ٹریک A: طالب
علم سے پروفیشنل کا راستہ (تعلیمی ویزا ہولڈرز)
یہ راستہ ان لوگوں کے لیے ہے جو کوریا میں تعلیم (D-2) یا زبان سیکھنے (D-4) کے
ویزے پر آتے ہیں۔
- ·
مرحلہ 1: گریجویشن اور
نوکری کی تلاش (D-10 ویزا):
پڑھائی مکمل کرنے کے بعد، آپ اپنے ویزے کو D-10
(جوب سیکنگ ویزا) میں تبدیل کرتے ہیں تاکہ
کوریا میں اپنی فیلڈ سے متعلق نوکری تلاش کر سکیں۔
- ·
مرحلہ 2: پروفیشنل ورک
ویزا (E-7 ویزا): کسی کوریائی کمپنی میں فل
ٹائم نوکری ملنے پر آپ کا ویزا E-7
(اسپیشلائزڈ آکیوپیشن) ویزا میں تبدیل ہو جاتا
ہے۔
- ·
مرحلہ 3: ریزڈنس ویزا (F-2-7
ویزا): E-7 پر کام کرتے ہوئے جب آپ پوائنٹس سسٹم
(عمر، تعلیم، کوریائی زبان، اور آمدنی) کے تحت 130 میں سے 80 یا زائد
پوائنٹس حاصل کر لیتے ہیں، تو آپ F-2-7
(ریزڈنس ویزا) کے اہل ہو جاتے ہیں۔ یہ
ویزا آپ کو کسی بھی کمپنی میں آزادانہ کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
- ·
مرحلہ 4: مستقل رہائش (F-5
ویزا): کوریا میں مسلسل 5 سال قانونی رہائش (یا F-2 ویزا پر 3 سال) مکمل کرنے اور مطلوبہ مالی و لسانی شرائط پوری
کرنے پر آپ کو F-5 مستقل رہائش
مل جاتی ہے۔
ٹریک B: ہنر مند مزدوروں کا راستہ (ای پی ایس ورک ویزا)
یہ راستہ ان پاکستانیوں کے لیے ہے جو EPS (ایمپلوئمنٹ پرمٹ سسٹم) کے تحت E-9 ویزا پر کوریا آتے ہیں۔
- ·
مرحلہ 1: ہنر مند کاریگر
ویزا (E-7-4 ویزا): اگر آپ نے گزشتہ 10 سالوں
میں سے کم از کم 4 سے 5 سال E-9 ویزا پر کوریا میں قانونی کام کیا ہو، تو آپ پوائنٹس سسٹم کے
ذریعے اپنے ویزے کو E-7-4 (اسکلڈ ورکر ویزا)
میں تبدیل کروا سکتے ہیں۔ اس کے لیے کوریائی زبان کا بنیادی علم، سالانہ آمدنی کا
ہدف، اور کمپنی کے مالک کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔
- ·
مرحلہ 2: لانگ ٹرم ریزڈنس
(F-2 ویزا): E-7-4 ویزا حاصل کرنے کے بعد چند سال باقاعدہ کام کرنے اور آمدنی بڑھانے
پر آپ پوائنٹس سسٹم (F-2-7) یا ریجنل ویزا (F-2-R) کے ذریعے ریزڈنس اسٹیٹس حاصل کر سکتے ہیں۔
- ·
مرحلہ 3: مستقل رہائش (F-5
ویزا): تمام تر قانونی مدت (عام طور پر 5 سال) اور
کوریائی جی این آئی (GNI) کے برابر آمدنی کی شرط پوری کر کے مستقل رہائشی کارڈ حاصل کیا
جاتا ہے۔
کامیابی کے 3 اہم ترین ستون (Key
Performance Factors)
کوریا میں کسی بھی ورک ویزا سے مستقل رہائش (F-5) تک پہنچنے کے لیے آپ کو ان تین چیزوں پر لازمی توجہ دینی ہوگی:
- 1.
کوریائی زبان کی مہارت (KIIP):
حکومتِ کوریا کا سوشل انٹیگریشن پروگرام (KIIP)
مکمل کرنا یا TOPIK ٹیسٹ
پاس کرنا سب سے زیادہ پوائنٹس دلاتا ہے۔ F-5 کے لیے عام طور پر KIIP لیول 5 پاس کرنا لازمی ہوتا ہے۔
- 2.
آمدنی کی شرط (GNI):
آپ کی سالانہ ٹیکس شدہ آمدنی کوریا کی فی کس مجموعی قومی آمدنی (Gross National
Income - GNI) کے برابر یا اس سے زیادہ ہونی چاہیے (بعض
کیٹیگریز میں یہ شرط 2 گنا بھی ہو سکتی ہے)۔
- 3.
صاف ریکارڈ (Clean Record):
آپ کا کوریائی اور اپنے ملک کا کرمنل ریکارڈ بالکل صاف ہونا چاہیے۔ ویزا کی مدت سے
ایک دن بھی اوپر رکنا (Overstay) یا غیر قانونی کام کرنا آپ کے مستقل رہائش کے کیس کو کئی سالوں
کے لیے بلاک کر سکتا ہے۔