اسلاموفوبیا آگاہی مہینے (Islamophobia Awareness Month)
کا آغاز 2012 میں مسلم
تنظیموں کے ایک گروپ نے کیا تھا۔ اس کا افتتاح نومبر 2012 میں لندن مسلم سینٹر میں منعقدہ تقریب کے ذریعے ہوا۔ ابتدا میں یہ
ایک آگاہی مہم تھی، لیکن وقت کے ساتھ اسکولوں، یونیورسٹیوں، اسپتالوں کے اداروں،
پولیس، کاروباری تنظیموں اور مختلف سماجی حلقوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع
کردیا۔ اس مہم کے دو بنیادی مقاصد ہیں: مسلمانوں کے خلاف تعصب اور نفرت کے بارے
میں شعور بیدار کرنا اور معاشرے میں مسلمانوں کی مثبت خدمات اور کردار کو اجاگر
کرنا۔ اس سال کی مہم کا نعرہ ’Don’t Let It Slide‘
رکھا گیا ہے، جس کا مفہوم ہے کہ اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کو
نظرانداز کرکے آگے نہ بڑھ جائیں۔ منتظمین کے مطابق کسی طالب علم کے مذہب پر مذاق
اڑانا، حجاب پہننے والی خاتون کے ساتھ ملازمت کی جگہ پر مختلف سلوک کرنا، کسی مسلم
خاندان کو سڑک پر ہراساں کرنا یا مسجد کو نقصان پہنچانا، یہ سب ایک ایسے ماحول کی
علامتیں ہیں جہاں تعصب کو معمولی بات سمجھ کر برداشت کیا جانے لگتا ہے۔ مہم کا
پیغام ہے کہ خاموشی اور بے عملی بھی نفرت کے معمول بننے میں مددگار ثابت ہوسکتی
ہے۔
مہم کے لیے جاری پریس ریلیز میں برٹش مسلم ٹرسٹ کی رپورٹ ’A
Year of Division‘ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ
برطانیہ میں اوسطاً ہر 5 دن
میں ایک مسجد پر حملہ ہوتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حملوں کی نوعیت مختلف رہی ہے، جن میں
آتش زنی، چاقو سے حملے، مسجد کی املاک کو نقصان پہنچانا اور دھمکانا شامل ہیں۔ یہ
واقعات صرف عمارتوں یا املاک کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے
اپنی عبادت گاہوں میں بلاخوف عبادت کرنے کے حق اور تحفظ کے احساس کو بھی متاثر
کرتے ہیں۔ برطانوی حکومت کے محکمہ داخلہ (Home Office)
کے 8 اکتوبر 2026 کو جاری کردہ اعداد و شمار بھی صورت
حال کی سنگینی ظاہر کرتے ہیں۔ انگلینڈ اور ویلز میں مارچ 2026 کو ختم ہونے والے سال کے دوران پولیس نے مجموعی طور پر 146825نفرت پر مبنی جرائم ریکارڈ کیے، جو گزشتہ
سال کے مقابلے میں ۷؍ فیصد زیادہ
ہیں۔ ان میں مذہبی بنیادوں پر نفرت کے جرائم کی تعداد 1006 سے بڑھ کر 1419 ہوگئی، یعنی 13 فیصد
اضافہ۔ مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے مذہبی نفرت کے جرائم 4479سے بڑھ کر 5132 ریکارڈ
کیے گئے، جو 15 فیصد اضافہ ہے۔
یہ واقعات انگلینڈ اور ویلز کے سرکاری پولیس ریکارڈ سے متعلق ہیں، پورے برطانیہ کے
تمام واقعات کا مکمل تخمینہ نہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026کو ختم ہونے والے سال میں مذہبی نفرت پر مبنی جرائم میں مسلمانوں
کے خلاف ریکارڈ کیے گئے واقعات کا حصہ 46 فیصد
تھا، جب کہ یہودیوں کو نشانہ بنانے والے واقعات 28 فیصد تھے۔ اسی مدت میں نسل یا نسلی پس منظر کی بنیاد
پر نفرت کے جرائم میں بھی 9فیصد
اضافہ ہوا۔ تاہم محکمہ داخلہ نے خود واضح کیا ہے کہ پولیس ریکارڈ میں درج واقعات کو
معاشرے میں نفرت کے حقیقی پھیلاؤ کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھا جاسکتا، کیونکہ ہر متاثرہ
شخص واقعے کی اطلاع پولیس کو نہیں دیتا۔ مزید یہ کہ پولیس کے ریکارڈنگ نظام اور
جرائم کی شناخت کے طریقوں میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آئی ہیں، اس لیے طویل مدتی
رجحانات کا موازنہ کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے۔ مہم کے منتظمین کے مطابق
اسلاموفوبیا صرف مسجد پر حملے یا کسی مسلمان کے خلاف کھلی گالی گلوچ تک محدود
نہیں۔ یہ تعلیمی اداروں، ملازمت کی جگہوں، اسپتالوں، عوامی ٹرانسپورٹ اور روزمرہ
سماجی زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں سامنے آسکتا ہے۔ حجاب پہننے والی خواتین کے
ساتھ امتیازی رویہ، مسلمانوں کے بارے میں بے بنیاد مفروضے، مذہبی شناخت کی بنیاد
پر ہراسانی اور سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد اس کی مثالیں ہیں۔ مہم کا کہنا ہے
کہ میڈیا اور سیاست میں مسلمانوں کی غلط یا یک طرفہ تصویر کشی بھی عوامی رویوں کو
متاثر کرسکتی ہے اور تعصب کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
اسلاموفوبیا آگاہی مہینے کے دوران اسکولوں، یونیورسٹیوں، مساجد،
کام کی جگہوں اور مقامی برادریوں کو مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے کی دعوت دی گئی
ہے۔ ان میں آگاہی ورکشاپس، مباحثے، تربیتی پروگرام، تعلیمی مواد کی تقسیم، سوشل
میڈیا مہمات اور متاثرہ افراد کے تجربات سننے کے لیے اجتماعات شامل ہیں۔ مہم کی
ویب سائٹ پر اسکولوں، مساجد، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور صحت کے شعبے کے لیے الگ الگ
معلوماتی مواد بھی فراہم کیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ تعصب کے خلاف عملی
اقدامات کے لیے ضروری ہے کہ لوگ صرف واقعات کی مذمت نہ کریں بلکہ اپنے اداروں اور
کمیونٹیز میں امتیازی رویوں کی نشاندہی اور روک تھام بھی کریں۔ اس سال کی مہم میں
سابق انگلش کرکٹر معین علی (Moeen Ali) کو سفیر کی حیثیت سے
بھی پیش کیا گیا ہے۔ ان کی شمولیت سے مہم کو کھیل اور عوامی زندگی سے وابستہ حلقوں
تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسلاموفوبیا آگاہی مہینے کا بنیادی پیغام یہ ہے
کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت کا مقابلہ صرف متاثرہ کمیونٹی کی ذمہ داری نہیں؛ تعصب دیکھنے
والے ہر فرد، ادارے اور سماجی تنظیم کو اس کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔