اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے
بتایا ہے کہ صحافیوں کے قتل میں ملوث عناصر کو سزا نہ ملنے کی عالمی شرح ایک
دہائی سے زیادہ عرصہ میں پہلی مرتبہ بڑھ گئی ہے اور جنگوں میں ڈرون کا بڑھتا ہوا استعمال صحافیوں کے لیے نیا خطرہ
ہے۔صحافیوں کے تحفظ اور ان کے خلاف جرائم پر عدم احتساب کے موضوع پر ادارے کی جاری
کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 2024 اور 2025 کے دوران دنیا بھر میں مجموعی طور پر 189 صحافی اور ذرائع ابلاغ سے وابستہ کارکن ہلاک ہوئے جو 2014 اور 2015 کے بعد سب سے بڑی تعداد ہے۔ ان میں دو تہائی سے زیادہ یعنی
127 صحافی جنگ زدہ علاقوں میں مارے گئے جو مجموعی ہلاکتوں کا 67 فیصد ہیں۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل خالد العنانی (General Khaled El-Enany)نے
کہا ہے کہ محاذ جنگ
سے اطلاعات دینے والے صحافیوں کو
ہلاک و زخمی کیا جا رہا ہے
لیکن افسوس ناک طور سے ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا
جاتا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل
انتونیو گوتیرش نے اس دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران کم
از کم 34 صحافیوں کی ہلاکت ہوئی۔ ایسے ہر سات قتل میں سے چھ کے مجرموں کو سزا نہیں
ملتی جبکہ جنگ زدہ علاقوں میں یہ شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔
عرب
ممالک میں ریکارڈ
ہلاکتیں
رپورٹ کے مطابق، 2024 اور 2025 کے دوران صحافیوں کے قتل کے سب سے
زیادہ مصدقہ واقعات عرب ممالک میں ریکارڈ کیے گئے جہاں 97 صحافی ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد لاطینی امریکا اور غرب الہند میں 37،
ایشیا اور الکاہل خطے میں 34، وسطی، مشرقی یورپ
میں 14، افریقہ میں چھ جبکہ
مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں ایک ایک صحافی کے قتل کی تصدیق ہوئی۔ فلسطین دونوں برسوں کے دوران صحافیوں کے قتل کے
حوالے سے سرفہرست رہا، جہاں پہلے سال 30 اور دوسرے سال 32 صحافی ہلاک ہوئے۔
ٹیکنالوجی سے
لاحق خطرات
یونیسکو نے اس رپورٹ میں صحافیوں پر ڈرون حملوں کی صورت میں ایک اور
تشویش ناک خطرے کی نشاندہی کی ہے۔ 2024 اور
2025 کے دوران ڈرون حملوں میں 50 صحافی ہلاک ہوئے جو کہ جنگ زدہ علاقوں میں مارے
جانے والے صحافیوں کی مجموعی تعداد کا 40 فیصد ہیں۔ رپورٹ
میں ایسے سات واقعات بھی درج کیے گئے ہیں جن میں ایک ہی حملے کے دوران متعدد
صحافیوں کو نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ ان میں ذرائع ابلاغ کے دفاتر اور عارضی
رپورٹنگ مراکز پر کیے گئے حملے بھی شامل ہیں۔ 15 صحافی
ایسے بھی تھے جنہیں مبینہ طور پر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب انہوں نے مخصوص جیکٹیں
پہن رکھی تھیں یا وہ ایسی گاڑیوں میں سوار تھے جن پر واضح طور پر لکھا تھا کہ ان
میں صحافی سفر کر رہے ہیں۔ خالد
العنانی (General
Khaled El-Enany)نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2222 پر
عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے جس کے تحت جنگوں میں صحافیوں اور ذارئع ابلاغ کے لیے
کام کرنے والے دیگر عملے کو شہریوں کی حیثیت سے تحفظ فراہم کرنے پر زور دیا گیا
ہے۔
خواتین
صحافیوں پر حملے
یونیسکو نے نشاندہی کی ہے کہ خواتین صحافی جنگ زدہ علاقوں اور آن
لائن پلیٹ فارمز پر غیرمعمولی خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔ 2024 اور 2025 کے دوران
قتل ہونے والی 14 خواتین صحافیوں میں سے 13 ایسے ممالک میں ہلاک ہوئیں جہاں مسلح
تنازعات جاری تھے۔ گزشتہ
سال اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن اور انٹرنیشنل سنٹر فار جرنلسٹس کے ایک
جائزے سے سامنے آیا کہ 75 فیصد خواتین صحافیوں کو آن لائن یا عملی زندگی میں
بدسلوکی اور ہراسانی کا سامنا رہا۔ 40 فیصد
سے زیادہ خواتین صحافیوں نے بتایا کہ انہیں آن لائن حملوں کے نتیجے میں حقیقی
زندگی میں بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ 2020 میں یونیسکو کے ایک جائزے کے دوران یہ
شرح 20 فیصد تھی۔
مثبت پیشرفت
رپورٹ میں بعض مثبت پیش ہائے رفت کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ یونیسکو کے
مطابق، ایسے ممالک جہاں جنگیں نہیں ہو رہیں وہاں صحافیوں کے قتل میں ملوث افراد کو
سزا نہ ملنے کی شرح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یہ
شرح 2012 میں 94 فیصد تھی، جو 2026 میں کم ہو کر 77 فیصد رہ گئی۔ اس طرح اوسطاً ہر
سال ایک فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسی
طرح، جہاں مسلح تنازعات نہیں ہو رہے وہاں صحافیوں کے قتل کی تعداد 85 رہی جو گزشتہ
18 برسوں میں سب سے کم ہے۔ یونیسکو
کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ جب حکومتیں صحافیوں کے تحفظ، قتل
کے واقعات کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی پر توجہ دیتی ہیں تو
بہتری لانا ممکن ہوتا ہے۔ انتونیو
گوتیرش نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں صحافی سچ سامنے لانے کی بھاری قیمت اپنی زندگی
کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ جب صحافیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کی جانب سے
اطلاع رسانی کا سلسلہ ختم کر دیا جاتا ہے تو درحقیقت تمام لوگ اس حملے کا نشانہ
ہوتے ہیں۔